رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی سوڈان میں قحط کا سبب سیاست دانوں کی بدعنوانی ہے، اقوام متحدہ


غربت اور تنازعات کے سبب جنوبی سوڈان میں 40 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بدعنوانی اور سیاسی چپقلشوں کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنم لے رہی ہیں اور جنوبی سوڈان میں نسلی تنازع کی بڑی وجہ بن رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ دسمبر 2013 کے بعد سے جب سے جنوبی سوڈان کا تنازع شروع ہوا ہے، 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اندرون ملک پناہ گزینوں کے طور پر 40 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کمشن کے ایک رکن اینڈریو کلافام کا کہنا ہے کہ آبادی کے 55 فی صد سے زیادہ حصے کو، جن میں خاص طور پر عورتیں اور بچے شامل ہیں، کھانے کے لیے مناسب مقدار میں خوراک موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ متحارب فریق امدادی اداروں کو ان تک رسائی سے روک رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں موسمیاتی عوامل اور بڑے پیمانے پر لوگوں کے بے گھر ہونے کی وجہ سے مزید خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کی ٹڈی دل کے حالیہ حملوں نے علاقے میں اجتماعی مصائب میں اضافہ کر دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو جان بوجھ کر فاقہ کشی کا شکار کیا جا رہا ہے اور یہ کام نسلی اور سیاسی خطوط پر کیا جا رہا ہے جو مخالف برادریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگوں کو فاقہ کشی میں مبتلا کرنا ایک جنگی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے، جس پر مقدمہ چلنا چاہیے۔

کمشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت بدعنوانی کی بری طرح لپیٹ میں ہے۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ سرکاری عہدے دار قومی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، تیل کی آمدنی اور ہر مہینے حاصل ہونے والے محصولات کے 80 فی صد کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔ اس لیے کہ سیاست دانوں نے اسے سرکاری کھاتوں سے کہیں اور منتقل کر دیا ہے۔

کلافام کہتے ہیں کہ سیاست دان لاکھوں ڈالر اپنی جیبوں میں ڈال رہے ہیں اور لاکھوں مصیبت زدہ شہریوں کو خوراک اور ایسی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر رہے ہیں جو ان کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔

وہ الزام لگاتے ہیں کہ جنوبی سوڈان کی حکومت کے عہدے دار ملک میں سرکاری فنڈز کی منی لانڈرنگ، رشوت خوری اور ٹیکس کی چوری میں ملوث ہیں۔ وہ سرکاری فنڈز کو ذاتی فوائد اور ذاتی مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ سرکاری دولت کی لوٹ مار کا جنوبی سوڈان میں انسانی ہمدردی کی صورت حال پر تباہ کن اثر ہو رہا ہے۔

56 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں تنازع کے تمام فریقین کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی ہولناک خلاف ورزیوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ رپورٹ میں 12 سال کی عمروں کے بچوں کی فوجیوں کے طور پر بھرتی، جنسی تشدد، مال مویشیوں کی چوری کی ظالمانہ وارداتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

کمشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ وہ جرائم کی شہادتیں اکھٹی کر رہے ہیں جو ایک خٖفیہ رپورٹ کی شکل میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کو پیش کی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس معلومات سے جرائم میں ملوث افراد پر مقدمے چلانے میں مدد ملے گی۔

جنوبی سوڈان کی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس بارے میں ردعمل معلوم نہیں ہو سکا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG