رسائی کے لنکس

logo-print

سنگین غداری کیس: پرویز مشرف دو مئی کو عدالت طلب


بیرونِ ملک جانے کے بعد سے پرویز مشرف نہ تو اس کیس میں پیش ہو رہے ہیں اور نہ ہی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق صدر کو حکم دیا ہے کہ وہ دو مئی کو عدالت کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ اگر پرویز مشرف 2 مئی کو پیش نہ ہوئے تو مزید حکم جاری کیا جائے گا۔

خصوصی عدالت نے جمعرات کو اسلام آباد میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

خصوصی عدالت جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پر مشتمل ہے جس کے سامنے سابق صدر کی جانب سے ان کے وکیل سلمان صفدر پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر سابق صدر کے وکیل نے اپنے مؤکل کی جانب سے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 265 کے تحت مقدمہ ختم کرنے کی درخواست دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مقدمہ کابینہ کی منظوری کے بغیر دائر کیا گیا۔ وفاق کا مطلب پوری کابینہ ہوتی ہے، فردِ واحد نہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف کوئی کیس نہیں لیکن انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں دفعہ 342 کا بیان نہیں ہوسکتا۔

سابق صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی کیمو تھراپی ہونی ہے۔

اس پر عدالت نے سوال کیا کہ پہلے بتائیں کہ مشرف کی حاضری سے متعلق دلائل مکمل ہوگئے؟

وکیلِ صفائی نے کہا کہ مؤکل سے رابطہ کر کے پانچ منٹ میں بتاتا ہوں۔ عدالت نے کہا کہ آپ رابطہ کریں جب تک ہم دوسرے فریق کو سنتے ہیں۔

جسٹس طاہرہ نے وکیلِ استغاثہ نصیر الدین نیر سے سوال کیا کہ ملزم کی غیر حاضری پر کیا کرنا چاہیے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ وکیل کی حاضری کو ہی ملزم کی حاضری سمجھا جاتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ وکیل بھی پیشی سے انکار کردے تو کیا صورتِ حال ہوگی؟ استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایسی صورت میں عدالت خود وکیل مقررکرے گی۔

وقفے کے بعد مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف 13 مئی کو پاکستان آ کر 342 کا بیان اور شہادت دینے کے لیے تیار ہیں۔

اس پر جسٹس طاہرہ صفدر نے کہا کہ 13 مئی کو ماہِ رمضان ہوگا۔ ماہِ رمضان میں ججز کی دستیابی مشکل ہوگی۔

وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پرویز مشرف دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ پرویز مشرف کا دل کا یہ عارضہ اپنی نوعیت کی مختلف بیماری ہے۔

وکیلِ صفائی نے دعویٰ کیا کہ پرویز مشرف کو دل کا جو عارضہ ہے وہ لاکھوں لوگوں میں سے کسی ایک کو ہوتا ہے۔ پرویزمشرف کی کیمو تھراپی چل رہی ہے۔

وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف کو کیموتھراپی کے لیے 8 سے 9 گھنٹے اسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ پرویز مشرف باتھ روم میں گر گئے تھے جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی پر بھی اثر پڑا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے حکم دیا کہ سنگین غداری کیس میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف 2 مئی کو اپنا بیان ریکارڈ کرائیں۔

عدالت نے 342 کا سوال نامہ بھی پرویز مشرف کے وکیل کو دے دیا اور کہا کہ اگر پرویز مشرف 2 مئی کو پیش نہ ہوئے تو مزید حکم جاری کریں گے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے شروع کیا تھا۔ مارچ 2014ء میں خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی جب کہ اسی سال ستمبر میں پراسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے۔

تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکمِ امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی تھی۔

بعد ازاں 2016ء میں عدالت کے حکم پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالے جانے کے بعد پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

بیرونِ ملک جانے کے بعد سے پرویز مشرف نہ تو اس کیس میں پیش ہو رہے ہیں اور نہ ہی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG