رسائی کے لنکس

logo-print

روس کا ڈوپنگ کے الزام کو چیلنج کرنے کا اعلان


روس نے ڈوپنگ ڈیٹا میں تبدیلی کے جرم پر چار سال کے لیے اولمپکس سے باہر نکالے جانے کے اقدام کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روس کے ڈوپنگ کے انسداد کے ادارے نے جمعہ کو باضابطہ مراسلہ روانہ کیا ہے جس میں ڈوپنگ کے انسداد کے عالمی ادارے کی جانب سے عائد کی گئی تعزیرات کے اقدام سے اتفاق نہیں کیا گیا۔ اب یہ معاملہ کھیلوں کی مصالحتی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ سال ٹوکیو میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں کے دوران روس کے ڈوپنگ میں ملوث ہونے کے معاملات پر جاری قانونی لڑائی چھائی رہے گی۔

روس کے انسداد ڈوپنگ کے ادارے نے کہا ہے کہ نشہ آور دوا کے متنازع استعمال پر مبنی تمام تنازعات کا نوٹس لیا گیا ہے، جس میں ڈیٹا کے اعداد و شمار سے چھیڑ چھاڑ کے معاملات کا ثبوت پیش کرنا شامل ہے۔

یہ ڈیٹا گزشتہ جنوری میں پیش کیا گیا تھا، جس میں ماضی کی کارستانی کو چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کے نتیجے میں چھڑنے والی قانونی لڑائی میں شدت آگئی ہے۔

انسداد ڈوپنگ کے روسی ادارے کے سربراہ یوری گنوس نے جمعہ کو تحریر کردہ مراسلے میں اپنا احتجاجی نوٹ شامل کیا ہے۔ گنوس نے روسی اہلکاروں پر تنقید کی ہے جب کہ انھوں نے اپیل کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کا اظہار کیا ہے۔

لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان پر ادارے کے بانی حاوی ہوگئے ہیں، جن میں روس میں کھیلوں کے بااثر رہنما شامل ہیں۔

ڈوپنگ کے عالمی ادارے نے پابندی لگائی ہے کہ آئندہ چار سال تک مختلف کھیلوں کے اہم مقابلوں کے دوران روسی ٹیم کا نام، پرچم یا قومی ترانہ شامل نہیں کیا جائے گا، جس میں آئندہ سال کے اولمپک کھیل اور 2022ء کا عالمی کپ فٹبال شامل ہے۔

البتہ روسی ایتھلیٹس کو مقابلے میں شریک ہونے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے نشہ آور ادویات کے استعمال اور لیب میں حقائق چھپانے کے معاملات میں ملوث ہونے کے الزام سے بری الذمہ ہونے کے ریکارڈ کو پیش نظر رکھا جائے گا۔

کھیلوں کے مقابلوں کے دوران جسمانی کارکردگی بڑھانے کے لیے ناجائز یا نشہ آور ادویات کے استعمال کا سہارا لینے کا عمل ڈوپنگ کے زمرے میں آتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG