رسائی کے لنکس

logo-print

روس پر 2020 کے اولمپکس میں شرکت پر پابندی عائد


فائل فوٹو

کھلاڑیوں میں استعداد بڑھانے کی ممنوعہ ادویات کے استعمال کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی ادارے نے روس پر آئندہ چار برسوں کے لیے اولمپکس اور کھیلوں کے دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔

ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کے ایک ترجمان کے مطابق پابندی روسی حکام کی جانب سے کھلاڑیوں کے طبی تجزیوں کی رپورٹس میں رد و بدل کا الزام ثابت ہونے پر عائد کی گئی ہے۔

پابندی کی سفارش 'واڈا' کے قوانین پر عمل درآمد کی نگران کمیٹی نے کی تھی جسے ادارے کی ایگزیکٹو کمیٹی نے پیر کو اپنے ایک اجلاس میں منظور کیا۔ ترجمان کے مطابق روس پر پابندی کے اطلاق کا فیصلہ کمیٹی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر کیا ہے۔

ایگزیکٹو کمیٹی نے کہا ہے کہ روسی حکام پر کھلاڑیوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج تبدیل کرنے اور بعض ایسے ریکارڈ ضائع کرنے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں جن سے کھلاڑیوں کی جانب سے ممنوعہ ادویات کے استعمال کا پتا چل سکتا تھا۔

روسی کھلاڑیوں کی جانب سے استعداد بڑھانے والی ممنوعہ ادویات کے استعمال کا اسکینڈل پہلی بار 2015 میں سامنے آیا تھا۔ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سے روس کی اسپورٹس اتھارٹیز کو سخت بین الاقوامی چھان بین اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

گزشتہ دو اولمپکس مقابلوں کے دوران بھی 'واڈا' نے روس کے کئی ایتھلیٹس کو ڈوپنگ کی شکایات پر مقابلوں میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔

'واڈا' کی جانب 2015 میں کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ روسی کھلاڑیوں میں استعداد بڑھانے والی ادویات کے استعمال کا رجحان عام ہے اور آفیشلز بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی میں اضافے کے لیے اس رجحان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

سرکاری سطح پر ممنوعہ ادویات کے استعمال کے الزام پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے روس کو گزشتہ سال جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس میں شرکت سے بھی روک دیا تھا۔ تاہم کمیٹی نے ڈوپ ٹیسٹ کلیئر کرنے والے روسی کھلاڑیوں کو اولمپک کے پرچم تلے انفرادی حیثیت میں شرکت کی اجازت دے دی تھی۔

'واڈا' کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندی کے نفاذ کے بعد آئندہ چار برس کے دوران ایسے تمام روسی ایتھلیٹس کو کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے پرچم اور ترانے کے بغیر شرکت کی اجازت ہوگی جو ممنوعہ ادویات کے استعمال کا ٹیسٹ کلیئر کریں گے۔

روسی حکام نے پابندی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ اقدام مغربی ملکوں کی جانب سے روس کو پسِ منظر میں رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

روس کے وزیرِ کھیل پیول کولوبکوف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لیبارٹری ڈیٹا میں پائی جانے والی بے ضابطگی تیکنیکی مسائل کا نتیجہ تھی اور اس میں کسی بدنیتی کا دخل نہیں تھا۔

'واڈا' کے ترجمان نے کہا ہے کہ روس کے پاس ادارے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے 21 روز کا وقت ہے۔ اگر روس نے پابندی کے خلاف اپیل کی تو یہ معاملہ کھیلوں میں تنازعات کا تصفیہ کرنے والے بین الاقوامی عدالت کے سپرد ہوجائے گا جو فریقین کو سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG