رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں کرونا ویکسین کی ترسیل پیر سے شروع ہو گی


فائل فوٹو

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ریاستوں میں کرونا ویکسین پیر کی صبح پہنچنا شروع ہو جائے گی۔ ابتداً لگ بھگ 30 لاکھ خوراکیں ملک بھر میں پہنچائی جائیں گی۔

امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمن کمپنی 'بائیو این ٹیک' کے اشتراک سے بنائی گئی کرونا ویکسین کی منظوری فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے جمعے کو دی تھی۔

خیال رہے کہ اس عالمی وبا سے امریکہ میں لگ بھگ تین لاکھ افراد ہلاک اور ایک کروڑ 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے 'آپریشن وارپ اسپیڈ' کے تحت ویکسین ڈویلپمنٹ پروگرام سے منسلک جنرل گسٹو پڑنا کا ہفتے کو کہنا تھا کہ شپنگ کمپنیز ‘یو پی ایس' اور 'فیڈ ایکس' کے ٹرک پیر کو مختلف ریاستوں میں قائم لگ بھگ 150 ڈسٹری بیوشن سینٹرز میں ویکسین پہنچائیں گے۔

جنرل پڑنا کا مزید کہنا تھا کہ 425 سینٹرز میں منگل جب کہ 66 سینٹرز کو بدھ تک ویکسین پہنچا دی جائے گی۔

اگرچہ طبی عملے اور نرسنگ ہومز کے عملے کو ترجیحی بنیادوں پر کرونا ویکسین دی جانی ہے۔ تاہم جنرل پڑنا کا کہنا تھا کہ اس کا حتمی فیصلہ محکمہ صحت کے حکام کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق کرونا ویکسین کی اتنی ہی خوراکیں، ویکسین کی پہلی خوراک وصول کرنے والوں کی دوسری خوراک کے لیے رکھی جائیں گی جو کہ کرونا وائرس سے مکمل طور پر محفوظ رہنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

ہفتے کو کیے جانے والے اعلان کے بعد کرونا ویکسین کی پورے ملک میں ترسیل کے لیے وفاقی، ریاستی اور نجی کمپنیاں متحرک ہو گئی ہیں۔

پڑنا کا صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے خلاف کوششوں میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور اس وبا کے خلاف فتح حاصل کرنے کے لیے حوصلہ اور ہمت درکار ہے۔

کرونا ویکسین کی پہلی کھیپ ریاست مشی گن کے علاقے کلمازو سے بذریعہ ٹرک روانہ کی جائے گی جس کے بعد اسے بذریعہ جہاز ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا جائے گا۔

میڈیکل ڈسٹری بیوٹر 'میک کیسن' اور فارمیسی کمپنیاں بشمول 'سی وی ایس' اور 'رائٹ ایڈ' بھی ابتدائی طور پر نرسنگ ہومز اور لیونگ سینٹرز میں ویکسین دیے جانے کے عمل میں شریک ہوں گی۔

کرونا وائرس کی ترسیل میں سب سے بڑا چیلنج اسے نقطۂ انجماد سے 94 سینٹی گریڈ نیچے کے درجہ حرارت میں محفوظ رکھنا ہے۔ جس کے لیے فائزر نے خصوصی کنٹینرز بنائے ہیں۔ جن میں ڈرائی آئس اور جی پی ایس والے سینسرز لگائے گئے ہیں۔ جن سے کمپنی اس چیز کو یقینی بنائے گی کہ ویکسین درکار سرد درجہ حرارت میں محفوظ رہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG