رسائی کے لنکس

logo-print

مجسمہ آزادی کو دھماکے سے آڑانے کی دھمکی، ملزم گرفتار: رپورٹ


ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ملزم اسمتھ کے خلاف ’غلط بیانی، گمراہ کرنے اور دھمکیاں دینے‘ کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ برس قید ہے

نیویارک میں امریکہ کے مجسمہٴآزادی کو بم دھماکے سے آڑانے کی دھمکی میں ملوث ملزم کو ریاست ٹیکساس سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ٹیلی فون پر ملزم جیسن اسمتھ کی دھمکی پر حکام نے مجسمہ آزادی کو 3200 سے زائد سیاحوں اور ملازمین سے خالی کرا لیا تھا۔

ملزم کی ٹیکساس سے گرفتاری کا باضابطہ اعلان جمعرات کو نیویارک پولیس اور ایف بی آئی کے علاوہ فیڈرل اٹارنی جنرل نیویارک نے بھی کیا ہے، جس کی تفیصل بدھ کے دن جاری ہونےوالے ایک بیان میں بتائی گئی۔

ملزم اسمتھ کو جمعرات کو ٹیکساس کے شمالی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا اور دوسری جانب اس کے خلاف مجرمانہ الزمات پر مبنی فائل جمعرات کو ہی من ہٹن کی عدالت میں کھولی گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ ملزم نے اس سال 24 اپریل کو اپنے آئی پیڈ کی مدد سے نائین ون ون پر فون کرکے اپنی شناخت عبدل یاسین کے نام سے کرائی اور خود کو ’آئی ایس آئی ایس کا دہشت گرد‘ بتایا اور دھمکی دی کہ ’ہم مجسمہ آزادی کو دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں‘۔

ٹیلی فون پر دھمکی موصول ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکہ خیز مواد کی تلاشی کے لئے مجسمہ آزادی کے جزیرے اور اسٹیٹن آئی لینڈ کے علاقے کی مکمل چھان بین کی۔ وزیٹرز کے لاکرز کی تلاشی لی گئی اور جزیرے کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا۔ لیکن دھمکی دینے والے کی شناخت نہ ہو سکی۔

یہی آئی پیڈ اس واقعہ کے بعد بھی دو بار دھمکیوں کے لئے استعمال کیا گیا جس میں نائن ون ون فون کرنے والے شخص نے خود کو ’آئی ایس آئی ایس بم بنانے والا‘‘ ظاہر کیا اور مبینہ طور پر ٹائم اسکوائر پر حملے اور بروکلن برج پر پولیس افسر کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔

ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ملزم اسمتھ کے خلاف غلط بیانی، گمراہ کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ برس قید ہے۔

XS
SM
MD
LG