رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر: کیا مبینہ 'لینڈ جہاد' کے خلاف وار اُلٹا پڑ رہا ہے؟


فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ رواں سال اکتوبر میں دیے گئے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے جس میں سن 2001 میں منظور کیے گئے متنازع 'قانون اراضی' کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے مفادِ عامہ کی ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ جموں وکشمیر اسٹیٹ لینڈ ایکٹ 2001، جس کو عام طور پر 'روشنی ایکٹ' کے نام سے جانا جاتا ہے غیر آئینی ہے۔

سیاست دانوں پرلوٹ کھسوٹ کا الزام

روشنی ایکٹ کے تحت سرکاری اراضی اور املاک پر کئی سالوں سے قابض افراد کو متعلقہ محکمے کی طرف سے مقرر کردہ رقوم کی ادائیگی کے عوض ملکیت کے حقوق حاصل ہوگئے تھے۔

مفادِ عامہ کی درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس قانون کی آڑ میں کھربوں روپے کی سرکاری اراضی اور دوسری املاک کو منظورِ نظر افراد اور دیگر با اثر لوگوں کو اونے پونے داموں فروخت کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں خزانے کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کا کام بھارت کے وفاقی تفتیشی ادارے سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کو سونپا ہے جس کے بعد حکومت نے روشنی ایکٹ کے تحت اُٹھائے گئے تمام اقدامات کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

'کلہاڑی غریبوں پر چل رہی ہے'

تاہم جموں و کشمیر محکمہ مال کے خصوصی سیکریٹری نذیر احمد ٹھاکر نے نظرِ ثانی کی درخواست میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے نو اکتوبر کے فیصلے میں ترمیم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی ہے کہ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد غیر ارادی طور پر عدالتی فیصلے کی شکار ہو رہی ہے۔

حکومت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بے زمین کاشت کاروں اور ایسے افراد کو جو زمین کے چھوٹے چھوٹے حصوں پر رہائش پذیر ہیں، بدقسمتی سے ایسے دولت مند اور بااثر افراد کے ساتھ ہانکا جارہا ہے جنہوں نے روشنی ایکٹ سے فائدہ اٹھا کر سرکاری اراضی اور املاک پر قبضہ جما رکھا ہے۔

اس دوران وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے چند ہوٹل مالکان نے روشنی ایکٹ سے متعلق عدالتی فیصلے پر سپریم کورٹ سے رُجوع کیا ہے۔

لینڈ جہاد کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک

بی جے پی نے عدالتی فیصلے اور اس کی روشنی میں حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنی فتح قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اس کے بقول ٰلینڈ جہادٰ کے خلاف ٰسرجیکل اسٹرائیکٰ ہے۔

بی جے پی اور ہم خیال جماعتوں اور افراد نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ روشنی ایکٹ کی آڑ میں بالخصوص جموں میں سرکاری اور جنگلات کی اراضی پر قبضہ کرنے کا مقصد اس ہندو اکثریتی خطے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

عدالت نے روشنی ایکٹ سے فائدہ اُٹھانے والوں کے نام ایک ماہ کے اندر سامنے لانے کا بھی حکم دیا تھا۔

حکومت کے انکشافات

اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی طرف سے جاری کردہ پہلی دو فہرستوں میں کئی سرکردہ سیاسی لیڈروں، تاجروں اور دوسرے بااثر افراد کے نام سامنے آگئے تھے۔ جن میں سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، اُن کے بیٹے عمر عبداللہ جو خود بھی ریاست کے وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں کے بھی نام شامل ہیں۔

کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر تاج محی الدین، ایک اور سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی بھی اس ایکٹ سے فائدہ اُٹھانے والوں میں شامل ہے۔ ان پر یا تو روشنی ایکٹ سے بے جا فائدہ حاصل کرنے یا پھر سرکاری اور جنگلات کی اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے یا تجاوزات کا الزام لگایا گیا۔

بی جے پی نے مسلم کشمیری سیاسی لیڈروں اور جماعتوں پر اراضی کی دانستہ لوٹ مار میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

پارٹی کے ایک سینئر لیڈر اور وفاقی وزیر قانون و انصاف روی شنکر پرساد نے کہا تھا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ فاروق عبداللہ سمیت جموں و کشمیر کے اہم رہنماؤں نے زمین پر قبضہ کرنے اور سرکاری اراضی اپنے نام کرانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ اور طاقت کا استعمال کیا۔

اپوزیشن کی تردید اور بی جے پی پر الزام

لیکن فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت دوسرے اپوزیشن لیڈروں نے ان تمام الزامات کی نہ صرف تردید کی بلکہ انتظامیہ پر الٹا الزام لگایا کہ وہ حکمران جماعت کی ایما پر صرف اپوزیشن لیدڑوں اور مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام ظاہر کر رہی ہے جس کا مقصد 'ہندوتوا' کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

تجزیہ نگار پروفیسر شیخ شوکت حسین کا کہنا ہے کہ جب روشنی ایکٹ سے فائدہ اٹھانے والے ناموں کی مزید فہرستیں سامنے آگئیں تو نام نہاد لینڈ جہاد کے خلاف بی جے پی کا وار الٹا پڑتا نظر آ رہا ہے۔

دوسری طرف جموں کے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کی طرف سے اس کی ویب سائٹ پر ڈالی گئی ایک ایسی فہرست چوبیس گھنٹے کے اندر ہٹالی گئی۔ جس میں کویندر گپتا نامی ایک شخض کا نام بھی درج تھا۔

مقامی سیاسی حلقوں میں یہ افواہ گشت کررہی ہے کہ سرکاری زمین مبینہ طور پر ہڑپ کرنے والا یہ شخص اصل میں بی جے پی کے مقامی لیڈر اور سابق نائب وزیرِ اعلیٰ کویندر گپتا ہیں ۔

کیا بی جے پی لیڈر خود مبینہ لینڈ جہاد میں ملوث ہیں؟

ایک مقامی سرگرم کارکن محمد صدیق پوسوال نے بتایا کہ انہوں نے ‘رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ’ کے تحت متعلقہ محکمے میں ایک درخواست دائر کردی ہے۔ جس میں اُن کے بقول جموں کے ڈویژنل کمشنر اور تحصیل بلوال کے تحصیل دار سرکاری دستاویز میں شامل وہ کوائف حذف کرنے کے لیے پرتول رہے ہیں۔ جن میں کویندر گپتا و دیگران کو تحصیل بلوال کے گینک نامی گاؤں میں سرکاری اراضی پر ناجائر قبضہ کرنے والوں میں شامل دکھایا گیا ہے۔

پوسوال نے کہا کہ لوگوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ یہ کویندر گپتا و دیگران کون ہیں اور ڈویژنل کمشنر کی ویب سائٹ سے یہ نام کیوں ہٹائے گئے۔

حکومت پر بی جے پی کے دباؤ میں آکر یوٹرن لینے کاالزام

ناقدین نے حکومت جموں و کشمیر کی طرف سے ہائی کورٹ میں دائر کرائی گئی نظرِ ثانی کی درخواست کو اس کی طرف سے ایک یو ٹرن اور ایک عجیب اقدام قرار دیا ہے۔

سرکردہ صحافی اور ٰانڈین ایکسپریسٰ کے ڈپٹی ایڈیٹر مزمل جلیل نے بتایا کہ جموں و کشمیر کی مسلم آبادی خاص طور پر وادیٔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے مسلمان رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات لگائے جارہے تھے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت اُس عدالتی فیصلے پر نظرِ ثانی کیوں چاہتی ہے۔ جسے بی جے پی نے کرپشن اور 'زمینی جہاد' کے خلاف ‘سرجیکل اسٹرائیک’ قرار دیا تھا۔

مزمل جلیل نے مزید کہا کہ اگرچہ بدقسمتی سے یہ تاثر پیدا کیا گیا تھا کہ مسلمان اور خاص طور پر کشمیری مسلمان اس اسکیم کے اصل فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ لیکن اعداد و شمار نے انکشاف کیا ہے کہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی بڑی تعداد جموں سے تعلق رکھتی ہے۔

پوسوال اور مزمل جلیل دونوں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر جموں خطے میں جنگلات کی زمین پر رہنے والے افراد (جنہیں روشنی ایکٹ کے مستفید افراد میں شامل دکھایا گیا ہے) بنیادی طور پر گجر اور بکروال برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں بے دخل نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ جنگلات کی زمین پر ان کے حق کو فاریسٹ ایکٹ، 2006 کےتحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

'کشمیری لیڈروں نے لوٹ مار کی'

بی جے پی کی ایک لیڈر اور وفاقی وزیر سمرتی ایرانی نے پارٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو دوہراتے ہوئے کہا کہ کشمیری لیڈروں نے روشنی ایکٹ کی آڑ میں دھوکہ دہی کی ہے۔ ان کے بقول ان لیڈروں نے جو اب گپکار گینگ میں شامل ہوگئے ہیں، نے لوگوں سے کہا تھا کہ روشنی ایکٹ کے تحت پچیس ہزار کروڑ روپے کی خطیر رقم حاصل کی جائے گی۔ جسے جموں و کشمیر میں نئے پاور پروجیکٹس قائم کرنے پر خرچ کیا جائے گا اور اس طرح غریب عوام مستفید ہوں گے۔ لیکن ان کی لوٹ کھسوٹ سے خزانے کو الٹا پچاس ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ان کے بقول یہ لوگ چور اور لٹیرے نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟۔

حزبِ اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ان الزامات کے جواب میں اور حکومت کی طرف سے عدالت میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے پرردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور اس کے لیڈر بے نقاب ہوگئے ہیں۔ جہاں تک حکومت کے یو ٹرن کا تعلق ہے وہ محض اپنا چہرہ بچانا چاہتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی ہے کہ روشنی ایکٹ سے سب سے زیادہ جموں سے تعلق رکھنے والے بی جے پی اور 'راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ' کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ لیکن ان کے بقول بدنام کشمیر اور جموں کے مسلمانوں کو کیا گیا۔

بی جے پی اپنے ہی داؤ میں پھنس گئی ہے: اپوزیشن کا دعویٰ

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اس ایکٹ سے فائدہ اُٹھانے والے افراد کی فہرست اُدھوری ہے۔ اب یہ بات سامنے آگئی ہے کہ روشنی ایکٹ سے سب سے زیادہ استفادہ کرنے والے مسلمان نہیں جموں کے ہندو ہیں۔ جو اثاثوں پر اپنا حق کھو دینے پر مشتعل ہیں۔ ان کےبقول لگتا ہے لینڈ جہاد کا بیانیہ پیچیدہ ہو رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG