رسائی کے لنکس

logo-print

جبری طور پر لاپتا رہنے والے ایک نوجوان کی کہانی


کوئٹہ میں لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 10 سال سے زائد عر صے سے نوجوانوں کے اغوا اور انھیں غائب کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جب کہ دوران حراست متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

حال ہی میں رہائی پانے والے دالبندین کے ایک شہری نے [جن کا نام ان کی سکیورٹی کے پیشِ نظر شائع نہیں کیا جا رہا] وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جس دن انھیں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا، اس روز وہ اپنے چار بھائیوں اور دو مہمانوں کے ہمراہ مہمان خانے میں بیٹھے تھے۔

"رات بارہ بجے کے بعد ایک نیم سیکورٹی ادارے کے باوردی اہلکاروں کے ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس درجن سے زائد لوگ گھر میں زبردستی داخل ہوئے۔ سب نے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے۔ انھوں نے ہمیں ہاتھ اوپر کر کے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کا حکم دیا۔"

"ہم نے ان کے احکامات کی تعمیل کی جس کے بعد انھوں نے ہمارے ہاتھ باندھ کر آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں۔ گھر کی خواتین کو ایک کمرے میں بند کر کے پورے گھر کی تلاشی لی گئی حتٰی کہ فریج کھول کر بھی چیک کیا گیا۔"

انہوں نے بتایا کہ ان اہل کاروں نے گھر کی تلاشی کے دوران سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی اور صبح تک تلاشی کا سلسلہ جاری رہا۔ صبح فجر کی اذان کے بعد ہمیں ایک گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ سیڑھیاں اترنے سے اندازہ ہوا کہ ہمیں کسی تہہ خانے میں لے جایا جا رہا ہے۔ بعد میں ہمیں الگ الگ کمروں میں قید کر دیا گیا۔

ان کے بقول کچھ دیر بعد ہمارے ساتھ پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوا۔ وہ ہر کسی کو الگ الگ بلاتے اور مختلف سوالات پوچھتے۔ "مجھ سے پوچھا کہ تم اپنے اس بھائی سے ملے ہو جو ایک کالعدم مذہبی تنظیم میں ہے۔ میں نے جواب دیا جی ملا ضرور ہوں لیکن یہ معلوم نہیں کہ اس کا تعلق کسی مذہبی تنظیم سے ہے۔"

اس کے علاوہ ذریعہ معاش، قبیلہ، اہل خانہ اور اس سے متعلقہ مختلف سوالات پوچھے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس تفتیش کے بعد دوبارہ انھیں گاڑی میں بٹھایا گیا اور اندازہ یہ ہے کہ کسی دفتر لے گئے۔ اس دوران ان کا سر بھی ڈھانپ دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ "دوران سفر میں نے شکایت کی کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے جس پر ایک دفتر پہنچنے کے بعد انھوں نے آنکھوں سے پٹی ہٹا دی اور پوچھ گچھ کا عمل مکمل ہونے پر دوبارہ پٹی باندھ دی گئی۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد انھیں اسی دفتر کے ایک ہال نما کمرے میں قید کر دیا گیا۔ ان کے ہاتھ پاؤں زنجیروں کے ساتھ باندھ دیے گئے۔ اس دوران ہمیں ناشتے یا کھانے پینے کو کچھ نہ کچھ دیا جاتا۔

ان کے بقول وہ وہاں سات روز رہے۔ اس دوران انھیں مسلسل چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ وہاں اور بھی بہت سے لوگ موجود ہیں لیکن آنکھوں پر بندھی پٹی کے باعث انھیں صحیح اندازہ نہیں ہو پاتا تھا۔

"آٹھویں روز مجھے اس بڑے کمرے سے کسی دوسرے کمرے میں منتقل کر دیا گیا۔ وہاں آنکھوں سے پٹی اور ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے۔ صبح ایک کپ چائے کے ساتھ دو پراٹھے، دوپہر اور رات کا کھانا بھی دیا جاتا۔ مسجد قریب تھی نماز پڑھنے کی سختی سے تاکید کی جاتی۔ یہاں تک کہ تہجد اور اشراق کی نمازیں بھی پڑھتے تھے۔ مجھے تاکید کی جاتی کہ اللہ سے معافی مانگو اس دوران وہیں سے ایک عالم سے قرآن سیکھا۔"

انہوں نے انکشاف کیا کہ سیل میں ان کے ساتھ چمن کا ایک شخص بھی تھا جو دو سال سے وہاں قید تھا جبکہ ایک بلوچ لبریشن آرمی کا کارکن بھی وہیں قید تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قید کے دوران ہر روز ایک ڈاکٹر آتا تھا اور وہاں لوگوں کو چیک کرتا تھا۔ اس دوران عید آگئی تو عید کے دن ہم قیدی آپس میں ملے۔

"ایک دن مجھے بتایا گیا کہ آپ کو رہا کرنے کے لیے کہیں لے جا رہے ہیں۔ دوبارہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر واپس پہلے والے کیمپ میں لے گئے اور وہاں سات روز رکھنے کے بعد رات گیارہ بجے مجھے رہا کر دیا گیا۔"

رہائی کے وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ "مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا گیا اور کوئٹہ کے نواحی علاقے میں میری آنکھوں پر بندھی پٹی کھول کر مجھے کہا گیا کہ ادھر ادھر دیکھے بغیر سر جھکاؤ اور چلے جاؤ۔ اس دوران کچھ نقد رقم بھی دی گئی۔"

انھوں نے بتایا کہ وہاں سے وہ دالبندین کی گاڑی میں بیٹھ کر اپنے آبائی شہر پہنچے اور زمین کو بوسہ دیا۔

ان کے بقول بعد میں انہیں بتایا گیا کہ میرے بھائیوں اور مہمانوں کو دو روز کی تفتیش کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG