رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم جوڈیشل کونسل میں دیگر ججوں سے متعلق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست مسترد


سپریم کورٹ آف پاکستان ، فائل فوٹو

سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت شروع کردی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم کسی کے لئے متعصب نہیں ہیں۔ ہم بھی آگے جا کر جوابدہ ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی ملکی تاریخ میں پہلی بار کھلی عدالت میں ہوئی۔

کونسل کی کارروائی کے آغاز میں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے جواب میں کہا کہ 7 گواہان ہیں جن کی فہرست عدالت میں جمع کرا دی ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ دو درخواستیں دائر کی ہیں۔ ایک درخواست میں الزامات سے متعلق ریکارڈ اور دوسری درخواست میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے رہائش گاہوں پر گزشتہ سات سالوں میں آنے والے اخراجات کا ریکارڈ مانگا ہے۔ جو جج سرکاری گھر کے ساتھ رہائش الاؤنس بھی لے رہے ہیں ان کا ریکارڈ بھی مانگا ہے۔

دونوں درخواستوں پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستیں اس وقت بے معنی ہے۔ جو الزمات لگائے گئے ہیں ان کا جواب دیں۔ یہ ریکارڈ منگوانے کا کوئی مقصد نہیں۔ اگر اس درخواست میں کسی ایک مخصوص جج کا ذکر ہوتا تو وہ ریکارڈ منگوا لیتے۔

اس دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی اپنی سیٹ سے کھڑے ہوئے اور روسٹرم پر جا پہنچے اور چیف جسٹس سے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے ریکارڈ کی اشد ضرورت ہے۔ میرے ساتھ بھی دوسروں کی طرح برابری کا سلوک کیا جائے۔ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ انصاف نہیں ہو رہا۔

چیف جسٹس نے شوکت عزیز صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس طرح سے بولنے کا حق نہیں۔ آپ نے جو بات کرنی ہے اپنے وکیل کے ذریعے کریں۔

عدالت نے دونوں درخواستیں خارج کردیں تو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ آپ نے قانونی نکات طے کیے بغیر درخواستیں خارج کردیں تو تاثر یہی جاتا ہے کہ انصاف نہیں ہو رہا۔ تیزی سے مقدمہ سننے کی کوئی وجہ تو ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر شخص کا حق ہے کہ اسے انصاف ملنا چاہیئے۔ یہ تو جج ہیں انہیں انصاف ملے گا۔ لیکن آپ کی مرضی کے مطابق نہیں چلیں گے۔

اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس کو مخاطب بوکر کہا کہ “آپ اپنی مرضی سے ہی چلیں گے” ۔

چیف جسٹس نے اس موقعه پر کہا کہ آپ کو ہم کمرہ عدالت سے باہر جانے کا بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں کریں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ جج صاحب یہاں سے کلین چٹ لے کر جائیں میرے لیے بعد میں سرخرو ہونے والی بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ میں یہاں سے منہ کالا کرکے نہیں جانا چاہتا۔

عدالت میں سی ڈی اے کے افسر انور علی گوپانگ کو بطور گواہ پیش کیا گیا اور ان کے بیان کے بعد سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و ا ٓرائش میں لاکھوں روپے خرچ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چند روز قبل راول پنڈی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ ادارہ آئی ایس آئی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر دباؤ ڈالتا ہے کہ ان کی مرضی کے بنچ بنائے جائیں جبکہ آئی ایس آئی نے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ پر زور دیا کہ الیکشن سے قبل نواز شریف اور مریم نواز باہر نہ آئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG