رسائی کے لنکس

ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم


فائل

عدالتِ عظمیٰ نے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت کی منسوخی کے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر تمام درخواستیں بھی مسترد کردیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کی درخواست پر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

منگل کو ڈاکٹر عاصم کی اپیل کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے انہیں بیرونِ ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کو ڈاکٹر عاصم کا پاسپورٹ واپس کرنے کا بھی حکم دیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت کی منسوخی کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر تمام درخواستیں بھی مسترد کردیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ انہیں طبی وجوہات کی بنا پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے۔

منگل کو سماعت کے دوران ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ان کے موکل کو 'ڈسک ری پلیسمنٹ' کے لیے بیرونِ ملک جانا ہے۔

اس پر درخواست کی سماعت کرنے والے جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیے کہ اس بیماری کے نام پر جو بھی باہر جائے واپس نہیں آتا۔

انہوں نے کہا باہر جا کر ایک مریض ہر ٹی وی چینلز کو انٹرویو بھی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر قانون کے مطابق ٹی وی چینلز کے خلاف بھی کارروائی ہو سکتی ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کرتا۔

جسٹس دوست محمد نے مزید کہا کہ گرفتاری سے پہلے ڈاکٹر عاصم بالکل ٹھیک تھے۔ نیب جس کو پکڑتا ہے وہ شدید بیمار پڑ جاتا ہے۔ گناہ یہ لوگ کرتے ہیں مصیبت میں ہم پڑ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پر ایک الزام کالعدم تنظیم کے لوگوں کے علاج کا بھی ہے۔

اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ کالعدم تنظیم طالبان ہیں یا لشکر جھنگوی؟ کالعدم تنظیم کے لوگوں سے تو وزیر داخلہ بھی ملتے ہیں۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ کسی تنظیم کا نام واضح نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ڈاکٹر عاصم مر جائے لیکن باہر نہ جائے۔

جسٹس دوست محمد نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کو میڈیکل کی بنیاد پر ضمانت ملی لیکن میڈیکل ہسٹری بتاتی ہے ڈاکٹر عاصم نے اسپرین کی گولی نہیں کھائی۔

انہوں نے سوال کیا کہ جب ڈاکٹر عاصم وزیر تھے تو چھٹی کرکے علاج کے لیے کیوں نہیں گئے؟

لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس وقت ڈاکٹر عاصم دل کے مریض تھے لیکن اب ان کے موکل کو مہروں میں بھی تکلیف ہے۔

جسٹس دوست محمد نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عاصم کے نفسیاتی مسائل زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عاصم رینجرز کی وردی دیکھ کر بھی چیخیں مارتے ہیں۔

اس پر عدالت میں موجود لوگ مسکرانے لگے لیکن ڈاکٹر عاصم کے وکیل لطیف کھوسہ جذباتی ہوگئے اور بولے کہ رینجرز الٹا لٹکا کرتشدد کرے تو کوئی حواس قائم نہیں رکھ سکتا۔

درخواست کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جسے کچھ دیر بعد سنایا۔

فیصلے کے تحت وزارتِ داخلہ کو ڈاکٹر عاصم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے ڈاکٹر عاصم کو 60 لاکھ روپے نقد بطور زرِ ضمانت جمع کرانے کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ وطن واپسی پر ڈاکٹر عاصم کا نام دوبارہ ای سی ایل میں شامل کردیا جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ڈاکٹر عاصم کے ساتھ نیب کا رویہ دیگر ملزمان سے مختلف ہے، میڈیکل بورڈ کی رائے کو غلط قرار نہیں دے سکتے، نیب نے شریک ملزمان کے بیرونِ ملک جانے پر اعتراض نہیں کیا۔

سپریم کورٹ نے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے دائر کی جانے والی نیب کی درخواستیں بھی خارج کردیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین کو رینجرز نے دہشت گردوں کی معاونت اور اربوں روپے کی کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کے بعد تین ماہ قبل سندھ ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر ان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔ تاہم عدالت نے انہیں بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہیں دی تھی۔

XS
SM
MD
LG