رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی سپریم کورٹ نے تین مسلمانوں کو ایف بی آئی ایجنٹوں پر مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی


امریکی سپریم کورٹ کی عمارت، فائل فوٹو

امریکہ کی سپریم کورٹ نے تین مسلمان مردوں کے حق میں اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ وہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف بی آئی) کے ایجنٹوں کے خلاف زر تلافی کا مقدمہ دائر کر سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر ایف بی آئی کا مخبر بننے سے انکار کیا تھا۔ جس کی وجہ سے امریکی حکومت نے ان پر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔

مذہبی آزادی کے حامی قدامت پسند جج کلیرنس تھامس نے اکثریتی رائے کا فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد مذہبی آزادی سے متعلق سن 1993 کے قانون کے تحت اپنی نجی حیثیت میں ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔

جسٹس تھامس نے گیارہ صفحات پر مبنی فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادیوں کا قانون فریقِ مقدمہ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ نجی حیثیت میں وفاقی اہلکاروں کے خلاف زر تلافی کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔

شہری حقوق کے لیے وکالت کرنے والے مسلمان امریکیوں نے اس فیصلے کو سراہا ہے۔

کونسل آف امیریکن اسلامک ریلیشنز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ آج امریکی مسلمانوں اور تمام عقائد پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یوم فتح ہے۔

کونسل کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو سرکاری ایجنٹوں کو مذہبی امتیاز کے خلاف جوابدہ ٹھہرانے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئیے۔

ایف بی آئی نے فوری طور پر اس فیصلے پر کوئی بیان دینے سے گریز کیا ہے۔

محمد تنویر، جمیل علیباہ اور نوید شنواری نے ایف بی آئی سمیت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے 25 ایجنٹوں کے خلاف سن 2014 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان تین مسلمان مردوں نے اپنے دعوے میں کہا تھا کہ انہیں ملک سے باہر پرواز کرنے کی ممانعت کر دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے ایف بی آئی کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنی مذہبی برادریوں پر نظر رکھیں اور ان کی جاسوسی کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG