رسائی کے لنکس

تشدد روکنے میں ناکامی، تین امریکی شہروں کو وفاقی فنڈز کی بندش کا خطرہ


فائل فوٹو

امریکہ کے محکمۂ انصاف نے کہا ہے کہ اگر نیویارک، پورٹ لینڈ اور سیاٹل شہروں کی انتظامیہ نے امن و امان بحال کرنے کے اقدامات نہ کیے تو ان تینوں شہروں کے لیے وفاقی امداد روک دی جائے گی۔

سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد محکمۂ انصاف کے مطابق ان تین شہروں میں احتجاج کے دوران تشدد اور املاک کو نقصان پہنچنے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔

اس صورتِ حال کے حوالے سے اٹارنی جنرل ولیم بر کا کہنا ہے کہ جب ریاستی اور مقامی رہنما قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان کے اہل کاروں کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکتے ہیں، تو اس سے عام شہریوں اور پر امن مظاہرین کو خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

محکمۂ انصاف کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم لوگوں کو درپیش خطرات کی صورت میں وفاقی ٹیکس سے جمع ہونے والے فنڈز ضائع نہیں کر سکتے۔

ان کے بقول یہ تین شہر اپنی اصلاح کریں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔

محکمۂ انصاف کے اس بیان پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے تینوں شہروں کے میئرز نے اسے سیاسی اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں پورٹ لینڈ کے میئر ٹیڈ ویلر، نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو اور سیاٹل کی میئر جینی ڈرکن نے کہا ہے کہ یہ سراسر ایک سیاسی اور غیر آئینی اقدام ہے۔

ان کے بقول صدر کانگریس کے شہروں کے لیے منظور کردہ فنڈز کے معاملے پر سیاسی کھیل کھیل رہے ہیں۔ ہم اپنے شہروں میں تمام برادریوں کے ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں۔

اپنے بیان میں ان کا کہا تھا کہ ہمارے شہر کرونا وبا سے مقابلہ کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں اس وقت گزشتہ صدی میں ہونے والے سب سے بڑے مالی بحران کے بعد بدترین مالی بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ فنڈز روکنے جیسے اقدامات کی بات کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکامی کسی اور پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ستمبر کے اوائل میں محکمۂ انصاف کی جانب سے شہروں سے متعلق جاری ہونے والی فہرست وائٹ ہاؤس کی اس ہدایت کے بعد سامنے آئی جس میں انتظامی امور کے دفتر سے کہا گیا تھا کہ وہ انتشار کا شکار علاقوں کے لیے وفاقی امداد بند یا کم کرنے پر غور کرے گا۔

محکمۂ انصاف کے مطابق اس فہرست میں مزید شہروں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ میں احتجاج کے دور رس اثرات
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:03 0:00

محکمۂ انصاف کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نیویارک شہر میں جولائی 2019 کے مقابلے میں جولائی 2020 میں فائرنگ کے واقعات میں 177 فی صد اضافہ ہوا۔ اس رجحان کے باوجود شہر نے محکمۂ پولیس کے بجٹ میں ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کی۔

پورٹ لینڈ میں مسلسل تین ماہ تک پر تشدد واقعات ہوتے رہے۔ جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں جون اور جولائی 2020 میں فائرنگ کے واقعات میں 140 فی صد اضافہ ہوا۔ اسی اثنا میں شہر نے پولیس کی فنڈنگ میں کٹوتی کی اور شہر کے میئر نے وفاق کی طرف سے تشدد کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی پیشکش کو ٹھکرایا۔

واشنگٹن ریاست کے شہر سیاٹل میں انتظامیہ نے شہر کے وسط میں مظاہرین کو ایک خود مختار علاقہ بنانے کی اجازت دی جو ایک ماہ تک قائم رہا۔ اس دوران شہر میں جرائم کی شرح میں 525 فی صد اضافہ ہوا اور دو نوجوانوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

شہر کے میئر اور ریاست کے گورنر نے وفاق سے مدد حاصل کرنے سے بھی انکار کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ ایسے شہروں کی وفاقی امداد روک دی جائے جہاں بدامنی پھیلانے اور لوگوں کی زندگی اجیرن کرنے والوں کو روکا نہ جا رہا ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG