رسائی کے لنکس

سندھ حکومت کو 15 دن میں آبی آلودگی کے خلاف منصوبہ بندی کی ہدایت


فائل فوٹو

وزیر اعلیٰ سندھ نے عدالت کو یقین دلایا کہ آلودگی کے خاتمے سے متعلق کام جلد نظر آئے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اچھا کام کریں گے تو لوگ بار بار منتخب کریں گے۔

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو صوبے میں آبی آلودگی ختم کرنے اور سیوریج کے پانی کی ٹریٹمنٹ کے لیے مربوط منصوبہ تیار کرکے 15 روز میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کراچی میں ٹریٹمنٹ پلانٹ کی زمین پر قبضے سے متعلق سیکریٹری بلدیات کو بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو آلودہ پانی کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز پر وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرکے واضح کیا کہ ہم نے بڑے عزت و وقار اور احترام سے آپ کو بلایا ہے۔ عدالتی کارروائی کو مخاصمانہ نہ سمجھا جائے۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں کو آلودہ پانی سے نجات دلائی جائے۔

عدالت نے کہا کہ اگر سندھ حکومت وفاق کے بغیر اس معاملے کو حل نہیں کر سکتی تو بتائیں ہم آپ کی مدد کرتے ہیں۔

اس موقع پر کھلی عدالت میں آلودہ پانی سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ان کے بیٹوں جیسے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ بلاول بھٹو بھی یہاں ہوتے اور یہ ابتر صورتِ حال دیکھتے۔

بینچ میں شامل جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ آپ کو لوگوں نے مسائل حل کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ جب مسائل حل نہیں ہوتے تب ہی لوگ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ عدلیہ کو انتظامیہ کے معاملات میں دخل اندازی کا کوئی شوق نہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم یہاں مسائل کے حل کے لیے آئے ہیں۔ ہمیں مل کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جو ویڈیو دکھائی گئی وہ درخواست گزار کی بنائی ہوئی ہے جب کہ صورتحال اتنی سنگین نہیں ہے۔ موقع ملا تو بہت جلد سپریم کورٹ میں ویڈیو پیش کروں گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اس ویڈیو کو چھوڑیں مگر کمیشن کی رپورٹ ہی دیکھ لیں۔ کمیشن کی رپورٹ کی سنگینی کا جائزہ لیں۔

چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ سندھ سے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے کندھے آپ کو دینے کے لیے تیار ہے لیکن آپ کو بھی کام مکمل کرنے کی گارنٹی دینی ہوگی۔ پینے کا پانی صوبائی معاملہ ہے، آپ ہی حل کریں گے۔ مل کر کام کریں گے تو چھ ماہ میں یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ چھ ماہ میں یہ کام مکمل نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ مہلت مانگیں گے تو وقت بڑھا دیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے عدالت کو یقین دلایا کہ آلودگی کے خاتمے سے متعلق کام جلد نظر آئے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اچھا کام کریں گے تو لوگ بار بار منتخب کریں گے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئین کےتحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ یہ معاملہ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں کوئی پہلو تہی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب لوگوں کے مسائل کریں اور انہیں گندے پانی سے نجات دلائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آلودہ پانی سے نجات نہ دلائی گئی تو اپنے بچوں کو کیا مستقبل دیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اقرار کیا کہ صوبے بھر میں 953 اسکیمز غیر فعال ہیں جبکہ عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ عدالت کو قابلِ عمل پلان بنا کر اس پر عمل بھی کر کے دکھایا جائے گا۔

دوران سماعت سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال بھی پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ کراچی کے شہریوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے جس کے لیے منصوبہ پہلے ہی تقریباً آٹھ سال تاخیر کا شکار ہے۔

عدالت نے گزشتہ سماعت پر ان سے استفسار کیا تھا کہ فلاحی مقاصد کے لیے رکھی گئی محمود آباد ٹریٹمنٹ پلانٹ کی زمین رہائشی مقاصد کے لیے استعمال کیسے کی گئی؟

اس سوال پر سابق ناظم کراچی کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کا ان کے پاس اختیار ہی نہ تھا۔ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی زمین سٹی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں رہائشی مقاصد کے لیے الاٹ کی گئی۔ عدالت نے سیکریٹری بلدیات سے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG