رسائی کے لنکس

logo-print

رہائی تو مل گئی لیکن 20 سال کا حساب کون دے گا؟


عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کے وکلا کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف استدعا منظور کرلی اور تینوں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کراچی میں تہرے قتل کی ایک واردات میں ملوث خاتون کو 20 سال بعد کم شواہد کی بنا پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصي بینچ نے 1999 میں کراچی کے علاقے سعود آباد ملیر میں قتل ہونے والے میاں بیوی اور بیٹے کے قتل کے مقدمے میں ملزمان کی اپیل کی سماعت کی۔ استغاثہ کے مطابق ملزمہ اسما نواب نے اپنے آشنا محمد فرحان اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی والدین اور بھائی کو قتل کردیا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق اس قتل کی وجہ والدین کی جانب سے اسمانواب کو شادی سے روکنا بنا۔ ملزمان نے واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا۔

انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت 1999 سے چلنے والے اس مقدمے میں عدالت نے کیس میں تین ملزمان کو سزائے موت اور ایک ملزم وسیم کو دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کو ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ چیلنج کیا جس پر دو رکنی بینچ کا منقسم فیصلہ آنے کے بعد کیس ریفری جج کو بھیج دیا گیا تھا۔ ریفری جج جسٹس رسول میمن نے ملزمان کی سزاؤں کو برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ملزمان نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کے دوران اقبالی بیان ریکارڈ کرتے وقت مجسٹریٹ کی جانب سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر حیرت کا اظہار کیا۔ دوران سماعت وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد انہیں پولیس کے حوالے نہیں بلکہ جیل بھیجا جائے گا۔ اس بات سے یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ ملزمان سے دباؤ میں بیانات لیے گئے تھے جن سے بعد میں ملزمان نے انکار کردیا تھا۔

عدالت نے ملزمان کے فنگر پرنٹس گرفتاری کے دو روز بعد کرانے پر بھی تعجب کا اظہار کیا۔ جبکہ اقبالی بیانات ایک جیسے نہ ہونے پر بھی ملزمان کے وکلا نے اعتراض کیا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کے وکلا کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف استدعا منظور کرلی اور تینوں کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ ان ملزمان میں اسما نواب، فرحان احمد اور جاوید صدیقی شامل ہیں۔ ملزمان کے ایک اور ساتھی وسیم دس سال قید کی سزا مکمل کرکے پہلے ہی رہا ہو چکا ہے۔

دیگر تینوں ملزمان کو کمزور شواہد کی بنا پر عدالت نے 20 سال کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسما نواب کے وکیل جاوید چھتاری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گرفتاری کے وقت ملزمہ کی عمر تقریبا 17 سال تھی۔ اس تہرے قتل میں کون ملوث ہے اس کے قاتل ڈھونڈنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ان کی نہیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 20 سال بعد والدین اور بھائی کے قتل کے الزام میں گرفتار خاتون اسما نواب کو کمزور شواہد کی بنا پر جیل سے رہائی تو مل گئی لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے بعد رہائی نے ملزمان کے قیمتی 20 سال جو ضائع کئے ان کا خمیازہ کیسے ممکن ہو سکے گا جبکہ تہرے قتل میں ملوث لوگوں کو قانون 20 سال بعد بھی گرفت میں لانے میں ناکام رہا، اس کی ذمہ داری سے تفتیش کرنے والے پولیس افسران کیسے بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں مقدمات کی انتہائی سست رفتاری سے شنوائی سے ایسے کئی انسانی المیے جنم لیتے ہیں جن کا خمیازہ ملزمان یا پھر مقتول کے اہل خانہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG