رسائی کے لنکس

logo-print

سزا معطلی کیس پر نیب کی درخواست خارج، 20 ہزار جرمانہ


سابق وزیر اعظم نواز شریف کو احتساب عدالت سے واپس اڈیالا جیل لے جایا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شریف فیملی کے خلاف ریفرنس دوسری عدالت منتقل کرنے کے خلاف نیب کی درخواست خارج کرتے ہوئے غیر ضروری درخواستیں دینے کے الزام پر 20 ہزار روپے جرمانہ بھی کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں شریف فیملی کے ریفرنس منتقل کرنے کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ بتائیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم میں کیا غیر قانونی کام ہے، ہائی کورٹ نے پہلے اپیل سننے کا حکم دیا اور پھر حکم امتناعی سننے کا فیصلہ کرلیا، ہائی کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ جو درخواست چاہے پہلے سنے۔

سپریم کورٹ نے ریفرنس منتقل کرنے کے خلاف نیب کی درخواست خارج کرتے ہوئے غیر ضوروی اور غیر متعلقہ درخواست دینے پر نیب کو 20 ہزار روپے جرمانہ کر دیا اور یہ جرمانہ ڈیم فنڈ میں جمع کروانے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے نواز شریف کے خلاف زیر سماعت ریفرنسز کی دوسری عدالت منتقلی سے متعلق فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنی درخواست میں نواز شریف اور احتساب عدالت کے جج کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ایک میں دائر کئے گئے تھے، ریفرنسز کی منتقلی سے متعلق ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ کی ہدایات کی واضح خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ کیس منتقلی کی درخواست میں میرٹ کا جائزہ نہیں لے سکتی تھی، کیس منتقلی کے لئے اٹھائے گئے نکات قانون اور انصاف کے مطابق نہیں تھے۔ نوازشریف کے وکیل اپنے دلائل میں جج محمد بشیر کی جانب داری یا تعصب ثابت نہیں کر سکے۔ فریقین نے کبھی بھی ٹرائل میں جج کی غیرجانبداری کااعتراض نہیں کیا، اعلی عدالتوں نے کبھی بھی مشترکہ حقائق کی بنیاد پر مقدمات منتقلی کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ مقدمات میں شہادت ریکارڈ کرنے والاجج شہادتوں کو بہتر سمجھ سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG