رسائی کے لنکس

آصف زرداری، پرویز مشرف کے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیل طلب


چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ جو بڑے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے، انہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔ (فائل فوٹو)
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ جو بڑے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے، انہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔ (فائل فوٹو)

عدالت نے سماعت کے آغاز پر ہی پرویز مشرف اور آصف زرداری کے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں جب کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو بھی اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق صدور پرویز مشرف اور آصف علی زرداری سے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ جو بڑے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے، انہیں ڈھونڈ نکالیں گے۔ تقریباً ایک ہزار لوگ ہیں جن سے تفصیلات لیں گے۔ بیانِ حلفی دیں کہ پاکستان سے باہر کوئی اکاؤنٹ نہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں کالعدم قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے فائدہ اٹھانے سے متعلق کیس کی بدھ کو سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل اور آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے سماعت کے آغاز پر ہی پرویز مشرف اور آصف زرداری کے بیرونِ ملک اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں جب کہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو بھی اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔

عدالت نے حکم دیا کہ تمام فریق اپنے اور بچوں کی بیرونِ ملک جائیدادیں اور غیر ملکی اکاؤنٹس ظاہر کریں۔ کسی کی کوئی آف شور کمپنی ہے تو وہ بھی ظاہر کریں اور تمام فریق اپنے بیانِ حلفی بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ملک قیوم اور آصف زرداری کی طرف سے جواب کب آئے گا؟ اس پر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ آصف زرداری کی طرف سے جواب آگیا ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے پراپرٹی اور فارن اکاؤنٹ ظاہر کرنے ہیں۔ آپ لوگوں کے باہر کوئی اثاثے نہیں، اس پر سپریم کورٹ کو اعتماد میں لیں۔

چیف جسٹس نے فاروق نائیک سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے میں کیا مسئلہ ہے؟ عدالت کو بتائیں پاکستان سے باہر آپ کی اور بچوں کی کوئی پراپرٹی ہے یا نہیں۔ آپ نے وعدہ کیا تھا۔ اب کچھ کرنے کا وقت آگیا ہے۔

فاروق نائیک نے کہا کہ جہاں تک آصف زرداری کا تعلق ہے، ہم نے ان کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ میرے مؤکل آصف زرداری آٹھ مختلف مقدمات میں باعزت بری ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی نے غلط بیانِ حلفی دیا تو پتا چل جائے گا۔ سب کو اپنے اور اپنے بچوں کے اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے۔ ان سب لوگوں سے عدالت براہِ راست تفصیلات طلب کرے گی۔ کرپشن والے تمام ایشوز نکالنے ہیں۔ کرپشن پر کوئی معافی نہیں۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے وکیل نے جواب دینے کے لیے دو ہفتے کی مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کل ہی نوٹس ملا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ جواب کے لیے مہلت دی جائے۔

عدالت نے این آر او مقدمے میں جواب جمع کرانے کے لیے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو دو ہفتوں کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میں زرداری صاحب کا نام نہیں لے رہا۔ سب کو کہہ رہا ہوں۔ ملک میں پیسہ لانا ہے اور ڈیمز بنانے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت ایمنسٹی اسکیم ختم ہونے کے بعد 7 اگست کو کریں گے۔

یاد رہے کہ سات جولائی 2012ء کو عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری سمیت این آر او سے مستفید ہونے والے 8500 افراد کے خلاف بد عنوانی کے مقدمات دوبارہ کھول دیے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG