رسائی کے لنکس

logo-print

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس: زرداری اور فریال ایف آئی اے کے سامنے پیش


آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس سے قبل بھی تین بار آصف زرداری اور فریال تالپور کو طلب کیا تھا لیکن پی پی پی کے دونوں رہنما 'ایف آئی اے' حکام کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔

پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کے ہمراہ جعلی بینک اکاونٹس کے ایک مقدمے میں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیر کو اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ایک تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے۔

اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے کے حکام نے آصف زرداری اور فریال تالپور سے تقریباً آدھے گھنٹے تک پوچھ گچھ کی جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا۔

تاہم اس تفتیش کے بارے میں ایف آئی اے کی طرف سے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

آصف علی زرداری اور فریال تالپور پر مبینہ جعلی بینک اکاؤنٹس کو غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ رقم کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بعض دیگر افراد کے ساتھ مل کر ان مبینہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے رقوم منتقل کیں۔

ایف آئی اے میں پیشی کے بعد آصف علی زرداری نے میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے جعلی بینک اکاونٹس سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ ان کے خلاف سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔

جب موقع پر موجود صحافیوں نے سابق صدر سے ایف آئی اے حکام کی طرف سے کی گئی پوچھ گچھ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایف آئی کے حکام جو پوچھنا چاہیں وہ پوچھ سکتے ہیں لیکن ان کے بقول، "اصل بات یہ ہے کہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔"

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس سے قبل بھی تین بار آصف زرداری اور فریال تالپور کو طلب کیا تھا لیکن پی پی پی کے دونوں رہنما 'ایف آئی اے' حکام کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔

قبل ازیں کراچی کی بینکنگ کورٹ نے اسی مقدمے میں آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے حکام کو انہیں چار ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے بعد آصف زرداری نے اسلام ہائی کورٹ کو ضمانت کی درخواست دی تھی جسے عدالت نے منظور کر لیا تھا۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے کی تحقیقات میں سست روی کا نوٹس لیتے ہوئے 'ایف آئی اے' کو اس معاملے کی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرکے عدالتِ عظمیٰ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

'ایف آئی اے' حکام کا کہنا ہے کہ 29 جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ایک اندازے کے مطابق تقریباً 35 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

'ایف آئی اے' کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق رپورٹ منگل کو سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے اس مقدمے میں بعض کاروباری شخصیات بھی ملزم ہیں جن میں سے بعض سابق صدر زرداری کے قریبی دوست ہیں۔

ان ملزمان میں سے کاروباری ادارے 'اومنی گروپ' کے سربراہ انور مجید اور ان کے بیٹے سمیت متعدد افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

تمام ملزمان کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتے آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG