رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ: آبپارہ میں آئی ایس آئی کے دفتر کے قریب سڑکوں کی بندش پر رپورٹ طلب


سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود اب بھی اسلام آباد میں کئی مقامات پر سکیورٹی کے نام پر سڑکوں کو سیمنٹ کے بلاکس رکھ کر بند رکھا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہ بخاری صاحب ہم تو سڑکیں کھلوانے آبپارہ تک پہنچ گئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد شہر کے مرکزی علاقے آبپارہ میں سڑک کی بندش کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اسلام آباد کے اس علاقے میں پاکستان کی سب سے بڑی انٹیلی جنس ایجنسی 'آئی ایس آئی' کا مرکزی دفتر موجود ہے جس کی حفاظت کے پیشِ نظر ایک مرکزی شاہراہ اور ملحقہ سڑکوں کو کئی برس قبل سیمنٹ کے بلاکس رکھ کر عام شہریوں کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آبپارہ کے قریب سڑک کی بندش پر شہر کے منتظم ادارے 'کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی' (سی ڈی اے) سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ سڑک کس نے اور کیوں بند کی؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ سکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دورانِ سماعت عدالت میں موجود ایک وکیل کی جانب سے راولپنڈی کینٹ کی نشاندہی کی گئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ راولپنڈی کیںٹ کی بند سڑکیں بھی کھلوا لیں گے۔

سماعت کے دوران چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ میریٹ اور سیرینا ہوٹل کے باہر سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔

عدالت میں موجود ایڈووکیٹ نعیم بخاری کا مؤقف تھا کہ ہوٹل انتظامیہ کو سنے بغیر رکاوٹیں ہٹائی گئیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سڑکوں پر موجود رکاوٹیں ہٹانے کے لیے ہمیں کسی کو سننے کی ضرورت نہیں۔

چیف جسٹس نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہ بخاری صاحب ہم تو سڑکیں کھلوانے آبپارہ تک پہنچ گئے ہیں۔

نعیم بخاری نے دہشت گردی کے خطرے کا ذکر کیا تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اللہ خیر کرے گا۔ دہشت گردی بھی ختم ہو رہی ہے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں سکیورٹی میں اضافہ کر دیں۔ لیکن سکیورٹی کے نام پر بند تمام سڑکیں کھلوائی جائیں گی۔

فاضل عدالت نے حکم دیا کہ کسی ہوٹل کی حدود کے اندر قواعد کی خلاف ورزی پر سی ڈی اے متعلقہ فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سڑکوں کی بندش کے حوالے سے حکم جاری کیا تھا کہ فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے بند کیے گئے راستوں کو فوری طور پر کھولا جائے جس پر گزشتہ روز اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی سڑکوں کو کھلوا دیا تھا۔

تاہم اب بھی اسلام آباد میں کئی مقامات پر سکیورٹی کے نام پر سڑکوں کو سیمنٹ کے بلاکس رکھ کر بند رکھا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG