رسائی کے لنکس

logo-print

فائز عیسٰی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت، وکلا کا دھرنا


پاکستان میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت منگل کو سپریم جوڈیشل کونسل میں ہوئی۔ لیکن، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے احتسابی ادارے کی کارروائی سے متعلق میڈیا کو کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی بھی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔

پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام وکلاء نے ججوں کے خلاف دائر حکومتی ریفرنس پر دھرنا دیا اور احتجاج بھی کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے والے متوقع ججز میں شامل ہیں۔ ان کے خلاف صدر مملکت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بجھوایا گیا تھا جس میں اثاثے چھپانے کے مبینہ الزمات لگائے گئے ہیں۔

ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے جج کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

ریفرنس پر ابتدائی سماعت 14 جون کو ہوئی جس کے بعد دوبارہ سماعت منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں ہوئی۔ ریفرنس پر سماعت کا آغاز دوپہر دو بجے ہوا اور اس موقع پر پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام وکلاء کی جانب سے دھرنا دیا گیا اور احتجاج کیا گیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کونسل نے ریفرنس پر ابتدائی سماعت کی تھی جس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس گلزار احمد کے علاوہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان شامل تھے۔

ریفرنس کی کارروائی اور پیشرفت کے بارے میں میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا اور سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے بھی کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ ریفرنس کی دوبارہ سماعت کب ہوں گی یہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی مقدمات کی کاز لسٹ سے معلوم کیا جاسکے گا۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات کی روشنی میں اب تک 2 ججز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔

پاکستان میں ججز کی بے ضابطگیوں اور دیگر شکایات درج کرانے کا واحد فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ سال اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی جس کے بعد صدر مملکت نے اس کی منظوری دے دی تھی۔

اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے باہر پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ اور سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ کنرانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ریاست کے تیسرے ستون پر حملہ ہوا ہے اور اس حملے کے لیے ہدف قاضی فائز عیسیٰ کو چنا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وکیلوں کے ضمیر پیسوں سے خریدنے کے لیے پروپیگنڈہ کیا گیا۔ ’وکیل پیسوں پر بکنے والے نہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ تمام بار ایسوسی ایشنز کی ہڑتال میں شرکت سے پروپیگنڈہ کرنے والے ناکام ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی کے نام سے وکلا کا ایک گروہ بھی سامنے آیا ہے جس نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو استعفیٰ دینا چاہیے، وکلا رہنما چوہدری رمضان، جمیل اصغر بھٹی اور دیگر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ثبوت موجود ہیں، جسٹس صاحبان بھی کوئی مقدس گائے نہیں، سب کو احتساب کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کے امجد شاہ کے احتجاجی کال کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ آج عدالتوں میں وکلا پیش ہوتے رہے، ہم بلاوجہ ہڑتالوں کی مخالفت کرتے ہیں، جن ججز کے خلاف 26 شکایتیں زیر التوا ہیں۔ ان پر بھی جلد سماعت کی جائے، پاکستان بار کونسل نے وفاقی وزیر کے خلاف جو رویہ رکھا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG