رسائی کے لنکس

logo-print

فوج نے روہنگیا آبادی کے خلاف 'بعض اوقات' طاقت کا بے جا استعمال کیا: سوچی


ہیگ

میانمار حکومت کی سربراہ آن سان سوچی نے کہا ہے کہ روہنگیا اقلیت کی مبینہ نسل کشی کے الزام میں ان کے ملک کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں دائر کردہ مقدمہ "نامکمل اور گمراہ کن" ہے۔

بدھ کو نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں مقدمے کی سماعت کے دوران آن سان سوچی نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ خراب سلوک کے الزامات کو مسترد کیا۔

روہنگیا اقلیت کی نسل کشی کے الزام میں میانمار کے خلاف یہ مقدمہ مغربی افریقہ کے ایک چھوٹے سے ملک گیمبیا نے دائر کیا ہے جس کی عالمی عدالت نے منگل کو سماعت شروع کی تھی۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ روہنگیا اقلیت کے ساتھ میانمار کی حکومت کا سلوک 1948ء کے 'جینوسائڈ کنونشن' کی صریح خلاف ورزی ہے۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف اقوامِ متحدہ کا اعلیٰ ترین عدالتی فورم ہے جس کے فرائض میں بین الاقوامی تنازعات کا تصفیہ کرنا اور مختلف قانونی امور پر اقوامِ متحدہ کو مشاورت فراہم کرنا شامل ہے۔

عدالت میں روہنگیا اقلیت کے ساتھ سلوک پر دائر مقدمے میں میانمار کی جانب سے پیش ہونے والی قانونی ٹیم کی قیادت امن کی نوبیل انعام یافتہ آن سان سوچی خود کر رہی ہیں۔ سوچی میانمار کی اسٹیٹ کونسلر ہیں اور ان کا عہدہ وزیرِ اعظم کے برابر ہے۔

بدھ کو مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے ملک کا موقف پیش کرتے ہوئے سوچی نے اعتراف کیا کہ روہنگیا اقلیت کے خلاف میانمار کی فوج نے "بعض اوقات طاقت کا بے جا استعمال کیا۔" تاہم، ان کا کہنا تھا کہ میانمار کے مغربی صوبے راکھین میں جاری تنازع بہت پیچیدہ ہے اور اسے سمجھنا اتنا آسان نہیں۔

انھوں نے کہا کہ گیمبیا نے میانمار کی راکھین ریاست کی صورت حال کو حقائق کی بنیاد پر پیش نہیں کیا۔

سال 2017ء میں راکھین کی مغربی ریاست میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران 730000 روہنگیا میانمار سے نکل کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش کی جانب چلے گئے، جہاں وہ کھچا کچھ بھرے کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کرنے میں گیمبیا کو 57 ارکان پر مشتمل اسلامی ملکوں کی تنظیم، کینیڈا اور نیدرلینڈز کی سیاسی حمایت حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG