رسائی کے لنکس

logo-print

اٹلی کی مدد سے سیاحتی گائیڈ کے طور پر کوہ پیمائی کی تربیت


اٹلی کے سفیر

تربیت کا مقصد سیاحوں کو آگہی اور صاف ماحول میں سیاحت کی سہولت مہیا کرنا تھا، جس کی سرپرستی معروف کوہ پیما پروفیسر کارلو البرٹو پینیلی نے کی۔ تقریب میں، سوات کے ضلعی ناظم نے کہا ہے کہ ''تربیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سوات کے حالات اب بہتر ہیں۔۔۔''

سیاحت کے فروغ کے لئے حکومت اٹلی کے توسط سے 21 نوجوانوں کو کوہ پیمائی کی تربیت دی گئی، اور یوں یہ تربیت یافتہ نوجوان مختلف ممالک سے آنے والے سیاحوں کے گائیڈ کے طور پر کام کر سکیں گے۔

'اٹالین آرکیالوجیکل مشن'، جو کئی عشروں سے سوات میں ثقافتی مقامات پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے 'خیبر پختونخواہ ٹورزم کارپوریشن' کے ساتھ مل کر سیاحت کے فروغ کے لئے نوجوانوں کو کوہ پیمائی کی تربیت دی۔

اس تربیت کو 'انوائیرومینٹ فرینڈلی ماونٹینرنگ کورس فار ٹریکنگ گائیڈ' کا نام دیا گیا اور یہ تربیت 15 دن پر مشتمل تھی، جس میں تین دن ابتدائی تعلیم اور باقی دن کالام کے پہاڑوں میں مشق کی گئی۔

تربیت کا مقصد سیاحوں کو آگہی اور صاف ماحول میں سیاحت کی سہولت مہیا کرنا تھا، جس کی سرپرستی معروف کوہ پیما پروفیسر کارلو البرٹو پینیلی (Carlo Alberto Pinellee) کر رہے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ تربیت میں نوجوان پہلے اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور جان جاتا ہے کہ کس طرح مختلف حالات میں زندہ رہنا ہے اور کس طرح حالات و واقعات کو قلم بند کرنا ہے، کیونکہ اس پر ایک کتاب لکھی جارہی ہے۔

تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں میں اٹلی کے سفیر سٹیفینوپونٹیکارنو (Stefano Pontecorvo) نے اسناد تقسیم کیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سیاحت کی صنعت میں ہر سطح پر مقابلے کا ماحول ہے، اور ہم یہ تعلیم دیتے ہیں کہ سیاحتی علاقوں میں صفائی کا خیال رکھیں۔ اُنھوں نے کہا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ سوات میں نیچرل آرکیالوجکل پارک بنایا جائے۔

تربیت میں حصہ لینے والے ایک نوجوان، ڈاکٹر ساجد یوسفزئی کہتے ہیں کہ اس تربیت سے ہم صرف بنیادی کوہ پیمائی سیکھنے کی توقع رکھتے تھے۔ لیکن، اس سے ہم نے بہت کچھ سیکھا، خاص طور پر کہ کس طرح اپنی ساتھی کو ریسکیو کرنا ہے۔

ایک اور نوجوان یاسر نواز کا کہنا ہے کہ کوہ پیمائی کے ساتھ ہم نے یہ بھی سیکھا کہ کس طرح ماحول اور پہاڑوں کو صاف رکھنا ہے۔

'ایڈونچر آف پاکستان' سے منسلک، بریگیڈیئر اکرم کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں نے ایک اچھے ٹرینر سے تربیت حاصل کی، کیونکہ اکثر سیاح پروفیسر پینیلی کے تربیت یافتہ گائیڈ مانگتے ہیں۔

'خیبر پختونخواہ ٹورزم کارپوریشن' کے جنرل منیجر سید محمد علی کہتے ہیں کہ جنہوں نے یہ تربیت حاصل کی وہ ہمارے ریکارڈ میں آگئے تو اب ہم سیاح کو تربیت یافتہ گائیڈ دیں گے اور ان کو معاوضہ بھی ملے گا۔

سوات کے ضلعی ناظم محمد علی شاہ نے کہا کہ ''تربیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سوات کے حالات اب بہتر ہیں؛ اور اگر سیاح یا 'ایڈوینچرسٹ' آتا ہے تو ہمارے پاس اُن کی دلچسپی کی برف پوش پپاڑی چوٹیاں بھی ہیں اور تربیت یافتہ گائیڈ بھی''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG