رسائی کے لنکس

شام: جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود فضائی حملے جاری


غوطہ پر فضائی حملوں کے بعد تباہی کا منظر۔ فائل فوٹو

شام کی فوج نے کہا ہے کہ فضائی حملوں کی وجہ حکومت مخالف ایک گروپ جیش اسلام کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

شام حکومت کے طیاروں نے مسلسل دوسرے دن بھی پیر کے روز طے پانے والے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ پر فضائی حملے کیے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال کی نگرانی کرنے والے ایک گروپ نے، جس کا مرکز برطانیہ میں ہے، کہا ہے کہ پیر کے روز عربین نامی قصبے پر فضائی حملے میں 8 شہری ہلاک اور کم ازکم 30 زخمی ہو گئے۔

شام کی فوج نے کہا ہے کہ فضائی حملوں کی وجہ حکومت مخالف ایک گروپ جیش اسلام کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

اتوار کے روز شام حکومت کے جنگی جہازوں نے مصر اور روس کے تحت کرائے گیے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈوما اور عین ترما کے قصبوں پر نصف درجن حملے کیے۔

معاہدہ قاہرہ، ہفتے کے روز نافذ ہوا تھا۔

پیر کے روز غوطہ پر اس کے باوجود فضائی حملے کیے گئے کہ روس نے جنگ سے پاک علاقے کی نگرانی کے لیے وہاں اپنی ملٹری تعینات کی ہے جس نے علاقے میں اپنی چیک پوسٹس اور چوکیاں قائم کر دی ہیں۔

شام کے جنوب مغربی علاقے میں قائم کردہ جنگ بندی سے پاک علاقے میں بھی روس کی ملٹری پولیس تعینات کی گئی ہے۔ اس معاہدے پر امریکہ، روس، اور أردن کے درمیان اس مہینے کے شروع میں اتفاق ہوا تھا۔ اور اسے شام کے اندر بین الاقوامی اثرورسوخ کے زون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

قاہرہ معاہدے میں مشرقی غوطہ میں مکمل جنگ بندی کے إطلاق کے لیے کہا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ شام حکومت کی فورسز وہاں داخل نہیں ہو سکتیں، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

غوطہ کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 4 لاکھ ہے اور یہ دارالحکومت دمشق کے بعد دوسرا بڑا شہر ہے جو ابھی تک باغیوں کے قبضے میں ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ شامی وہاں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل استعمال کر رہے ہیں اور وہ اس کا إلزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG