رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں پارلیمانی انتخابات، دو ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں


شام کے صدر بشاالاسد اور ان کی اہلیہ اپنا عام انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال رہے ہیں۔19 جولائی 2020

کرونا وائرس، خانہ جنگی اور اقتصادی بحران کے باوجود شام میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ ہر چند کہ مختلف جماعتوں نے اس انتخاب میں حصہ لیا ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی جماعت بشار الاسد کی پارٹی کے لیے بڑا چیلنج نہیں ثابت ہو گی۔

شام کی پارلیمنٹ کی ڈھائی سو نشستوں کے لیے آج اتوار کو ووٹ ڈالے گئے۔ شام میں خانہ جنگی کے دوران یہ تیسرے انتخابات ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ یہ انتخابات دو بار ملتوی کیے جا چکے تھے، آج مکمل احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے ووٹنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔

انتخاب میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو ہزار امیدواروں نے حصہ لیا۔ لیکن دو عشروں سے اقتدار میں رہنے والی بشارالاسد کی بعث پارٹی کے لیے کوئی بھی جماعت خطرہ نہیں بن سکے گی۔

پورے ملک میں سات ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں وہ باغی علاقے بھی شامل تھے جہاں دو ہزار سولہ میں ووٹنگ نہیں ہو سکی تھی۔

بشار کے مخالفین نے ان انتخابات کو ایک مذاق سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بشار کی وجہ شام کے لاکھوں افراد اس حال کو پہنچیے ہیں۔

ترکی میں موجود حزب مخالف شامی قومی اتحاد نے کہا کہ اتوار کو ہونے والے انتخاب اسد حکومت کا رچایا ہوا ایک ڈرامہ تھے۔

شام میں یہ ووٹنگ ایسے حالات میں ہوئی ہے جب ملک شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ امریکہ نے شام پر جو اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں اور لبنان جس معاشی بحران سے گذر رہا ہے، ان کی وجہ شام کی معاشی حالت بہت خستہ ہو چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG