رسائی کے لنکس

logo-print

شام: حزب اختلاف نے پارلیمانی انتخابات کو ڈرامہ قرار دے دیا


پولنگ اسٹیشن میں داخل سے قبل ووٹروں کا ٹمپریچر چیک کیا گیا

کرونا وائرس، خانہ جنگی اور اقتصادی بحران کے باوجود شام میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ہر چند کہ مختلف جماعتوں نے اس انتخاب میں حصہ لیا ہے، مگر شام کے حالات پر نظر رکھنے والے مبصریں کا خیال ہے ان میں سے کوئی بھی جماعت صدر بشار الاسد کی پارٹی کے لیے بڑا چیلنج نہیں ثابت ہو گی۔

شام کی پارلیمنٹ کی ڈھائی سو نشستوں کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے گئے۔ شام میں خانہ جنگی کے دوران یہ تیسرے انتخابات ہیں۔ کرونا وائرس کی وجہ یہ انتخابات دو بار ملتوی کیے جاچکے تھے، اتوار کو مکمل احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھتے ہوئے ووٹنگ کا عمل مکمل کیا گیا۔

انتخاب میں مختلف جماعتوں کے چند نمائندوں کے علاوہ بڑے بڑے سرمایہ داروں سمیت تقریباً سولہ سو امیدواروں نے حصہ لیا۔ چونکہ حکومت نے ان تمام امیدواروں کی پہلے ہی منظوری دے دی تھی اس لیے دو عشروں سے اقتدار میں رہنے والی بشارالاسد کی بعث پارٹی کے لیے کوئی بھی جماعت خطرہ نہیں بن سکے گی۔

پورے ملک میں سات ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے، ان میں وہ علاقے بھی شامل تھے ، جن پر صدر اسد حکومت کی فورسز نے پچھلے دو سال کے دوران دوبارہ قبضہ حاصل کیا تھا۔

اسد کے مخالفین اور مغربی طاقتوں نے ان انتخابات کی مذمت کی ہے۔ امریکی حکومت نے کہا کہ اسد نے شامی عوام پر جو ظلم ڈھائے ہیں، ان کے اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔

ترکی میں موجود حزب مخالف شامی قومی اتحاد نے کہا کہ اتوار کو ہونے والے انتخاب اسد حکومت کا رچایا ہوا ایک ڈرامہ تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار بھی حکمران بعث جماعت اور اس کے اتحادی یہ انتخابات جیت جائیں گے، اور بیس سال سے جاری اسد حکومت بدستور اقتدار میں رہے گی۔

تقریباً دس سال سے جاری خانہ جنگی میں ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر بیرون ملک پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG