رسائی کے لنکس

logo-print

'میزائل حملوں سے شام کی خانہ جنگی طول پکڑ سکتی ہے'


میزائل حملوں سے سائنٹیفک ریسرچ سینٹر کی تباہی کا منظر، تاہم شام کا دعوی ہے کہ نقصان کی سطح معمولی ہے۔ 14 اپریل 2018

امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے جمعے کی رات شام پر فضائی حملے کئے۔ امریکی محکمہء دفاع کا کہنا ہے کہ یہ حملے شام کی حکومت کے ان کیمیائی حملوں کے جواب میں کیے گئے جو اس نے گزشتہ ہفتے دمشق کے نواح میں دومہ کے شہریوں پر کئے تھے جن میں 40افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو گئے تھے۔

وائس آف امیریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں مختلف ممالک سے تجزیہ کاروں نے ان حملوں پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سابق ڈئریکٹر اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا کہ شام کی خانہ جنگی ختم ہونے کو تھی جو ان حملوں کے بعد اب شاید ختم نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کے اثرات بھی دیرپا نہیں ہوتے کیونکہ کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری دوبارہ شروع کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس حملے سے کسی پائیدار حل کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔

صدر ڈولڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس سے ان کی منظوری کا ذکر نہیں کیا تھا جبکہ پروفیسر ڈاکٹر حسنات کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے مگر کانگریس سے منظوری لی جاتی تو بہتر تھا۔کیونکہ یہاں امریکی مفادات متاثر نہیں ہو رہے تھے۔

روس نے ان حملوں پر اپنا شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلو الیا ہے۔ ڈاکٹر حسنات کا کہنا تھا کہ امریکہ سلامتی کونسل کی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

تاہم روسی قرار داد مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی اور مسترد کر دی گئی۔

امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کی تنصیبات پر حملہ کرنے سے پہلے فرانس کے صدر ایمانویئل میکراں نے پر زور الفاظ میں کہا تھا کہ فرانس کے پاس اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ شامی حکومت نے دومہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔

پیرس سے بات کرتے ہوئے پیرس یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر ڈاکٹر عطاء محمد نے کہا کہ اتحادیوں نے اس بات کی تصدیق کے لئے کہ آیا شام نے دومہ میں کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں یا نہیں، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا انتظار نہیں کیا۔

برطانیہ میں روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی پر کیمیائی گیس سے حملے کے بعد برطانیہ نے اس کا الزام روس پر عائد کیا تھا۔ آیا برطانیہ نے ان حملوں میں شریک ہو کر روس کو کوئی پیغام دینے کی کوشش کی۔ اس سوال کے جواب میں لندن سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ جواز کوئی بھی ہو حملوں سے پہلے وہ فورم استعمال کرنے چاہئیں جو اس طرح کے واقعات کی نشاندہی کے لئے بنائے گئے ہیں۔

دومہ پر شام کے کیمیائی حملوں کی خبروں پر امریکہ اور دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح ترکی میں بھی تشویش پائی گئی۔ تاہم ترک صدر اردوان کی کوشش تھی کہ مفاہمت کی فضا برقرار رہے۔ استنبول سے ترک ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ اور کالم نگار فرقان حمیدی نے کہا کہ ترکی میں امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے ان حملوں کے بارے میں ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں ۔

پاکستان کے دفائی تجزیہ کار بریگیڈئیر ٕمحمود شاہ نے پروگرام جہاں رنگ میں بات کرتے ہوئے ان حملوں کو مغربی طاقتوں کی جدید حکمت عملی قرار دیا۔ جبکہ افغان امور کے تجزیہ کار اور نیوز ایجنسی خبریال کے سربراہ میر ویس خان نے کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے دنیا کی پوری توجہ شام کی صورتِ حال پر مرکوز ہو گئی ہے جبکہ افغان حکومت اب بھی طالبان کے ساتھ بر سرِ پیکار ہے۔

XS
SM
MD
LG