رسائی کے لنکس

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے شام پر میزائل حملے


امریکی وزیر دفاع میٹس اور امریکی چیفز آف اسٹاف کے سربراہ، جنرل ڈنفرڈ نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں بتایا ہے کہ ''فضائی کارروائی کا مقصد شامی صدر کو واضح پیغام بھیجنا تھا''

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی طرف سے شام میں مشترکہ فوجی کارروائی کی ہے جس میں لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں سے میزائل فائر کیے گئے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی رات اعلان کیا کہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف ''ایک مشترکہ کارروائی'' کی ہے، جس کا مقصد اسد کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بند کرانا ہے۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اسد کے خلاف دباؤ ''قائم رکھے گا'' جب تک وہ، بقول صدر، ''اپنے لوگوں پر مجرمانہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنا بند نہیں کرتے جن کی بین الاقوامی طور پر بندش عائد ہے''۔

ٹرمپ کے خطاب کے وقت شام کےدارالحکومت دمشق میں اتحادیوں نے میزائل حملہ کیا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس 'اے پی' کے مطابق مشرقی دمشق سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ شامی ٹی وی کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا نشانہ دمشق کے قریب واقع علاقے برزہ میں ایک سائنسی تحقیقی مرکز اور حمص کے قریب ایک فوجی ڈپو تھا۔

شامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ فضائی دفاعی نظام نے دمشق کے جنوب میں 13 میزائلوں کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔

صدر ٹرمپ
صدر ٹرمپ

قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ فضائی کارروائیوں کا مقصد شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو تلف کرنا ہے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم 'سریئن آبزرویٹری آف ہیومن رائٹس' کے مطابق اتحادیوں کے حملے میں نشانہ بنائے جانے والے مقامات سے رواں ہفتے کے اوائل میں لوگوں کا انخلا ہو چکا تھا۔

شامی حکام نے بھی کہا کہ روس کی طرف سے اس انتباہ کے بعد کہ ان مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ان مقامات سے لوگوں کو خالی کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے شام کے شہر دوما میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور سیکڑّوں متاثر ہوئے تھے اور اس کی وجہ امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کا حملہ تھا جو شامی حکومت نے کیا۔ اسد حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے کی تردید کرتی آئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی 'روئٹرز' کے مطابق برطانیہ کی وزیراعظم تھریسا مے نے ہفتہ کو کہا کہ اتحادیوں کا یہ ردعمل "خانہ جنگی میں مداخلت نہیں۔ یہ حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں۔ یہ محدود اور بہ ہدف حملہ تھا جس سے خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کا حصہ ہے۔"

امریکی کانگرس کے راہنماوں نے بھی شہریوں پر کیمیائی حملے کے خلاف کی جانے والی ان کارروائیوں کی حمایت کی لیکن بعض کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔

ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن نے صدر ٹرمپ کو سراہتے ہوئے کہا کہ "اتحادیوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کن اقدام کیا گیا، ہم اپنے عزم پر متحد ہیں۔"

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان مکین نے ان حملوں کو سراہا لیکن ان کا کہنا تھا کہ "مشرق وسطیٰ میں اس طرح امریکی مقاصد حاصل نہیں ہوں گے۔"

سینیٹ میں ڈیموکریٹک سربراہ شک شومر نے اتحادیوں کے حملے کو مناسب قرار دیا لیکن ان کے بقول "امریکی انتظامیہ کو ہمیں شام کی جنگ میں مزید نہ الجھنے سے محتاط رہنا ہوگا۔"

بعدازاں، امریکی وزیر دفاع میٹس اور امریکی چیفز آف اسٹاف کے سربراہ، جنرل جوزف ڈنفرڈ نے ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ''فضائی کارروائی کا مقصد شامی صدر کو واضح پیغام بھیجنا تھا''۔

اُنھوں نے بتایا کہ دمشق کے مضافات میں موجود اُس تحقیقی مرکز اور ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا جہاں کیمیائی ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ساتھ ہی فرانس اور برطانیہ کے لڑاکا طیاروں نے کارروائی کی۔

اُنھوں نے بتایا کہ حملے میں ابھی تک کسی شخص کے مارے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ آئندہ فضائی کارروائی کا انحصار اس بات پر ہوگا آیا شام کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز آتا ہے یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG