رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں اسلحے کے گودام پر اسرائیل کا میزائل حملہ


اسرائیل کے میزائل حملوں کے بعد دمشق کے نواح میں واقع پہاڑیوں کے عقب سے آگ اور دھواں اٹھ رہا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق جن مقامات پر میزائل حملے ہوئے ہیں وہاں لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور ایرانی ملیشیاؤں کے زیرِ استعمال اسلحے کے گودام واقع ہیں۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے دارالحکومت دمشق کے نزدیک اسلحے کے ایک گودام پر بمباری کی ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے منگل کی شب لبنان کی حدود سے میزائل فائر کیے جن میں سے بیشتر کو شام کے میزائل دفاعی نظام نے مار گرایا۔

فوجی ذرائع کے مطابق بعض میزائل اسلحے کے ایک گودام کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ شامی حکام نے حملے میں فوج کے تین اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔

تاہم شام میں تشدد کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' نے کہا ہے کہ اسرائیلی میزائلوں نے دمشق کے نزدیک تین مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق جن مقامات پر میزائل حملے ہوئے ہیں وہاں لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ اور ایرانی ملیشیاؤں کے زیرِ استعمال اسلحے کے گودام واقع ہیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں دمشق کے آسمان پر میزائلوں کو پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں دمشق کے آسمان پر میزائلوں کو پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق منگل کی شب کیے جانے والے حملوں کے ایک گھنٹہ بعد تک دمشق کے رہائشیوں کو سرکاری فوج کی طیارہ شکن توپوں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

اس سے قبل لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا تھا کہ شام کی سرحد سے متصل ملک کے بعض جنوبی علاقوں میں اسرائیلی طیارے نیچی پرواز کرتے دیکھے گئے ہیں۔

اسرائیل نے حسبِ معمول شام میں میزائل حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام سے فائر کیے جانے والے ایک طیارہ شکن میزائل کے باعث منگل کی شب فضائی دفاعی نظام کو موثر کیا گیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ اسرائیل اس سے قبل بھی شام پر میزائل حملوں کے لیے لبنان کی فضائی حدود استعمال کرچکا ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیلی فوج شام میں سیکڑوں فضائی حملے کرچکی ہے جن میں سے بیشتر کا ہدف ایران یا اس کی حامی ملیشیاؤں کے ٹھکانے تھے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں دمشق کے آسمان پر میزائلوں کو پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں دمشق کے آسمان پر میزائلوں کو پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام میں ایرانی مفادات اور اس کے حامیوں کو نشانہ بناتے رہیں گے کیوں کہ وہ اپنے پڑوس میں ایران کی حمایت یافتہ کسی تنظیم یا ایرانی اہلکاروں کی موجودگی برداشت نہیں کرسکتے۔

لیکن امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام میں تعینات اپنے فوجی دستے واپس بلانے کے اعلان کے بعد سے اسرائیل کا شام میں یہ پہلا حملہ ہے۔

فوج واپس بلانے کے صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کی جانب سے شام میں اپنی فوجی موجودگی کو مستحکم کرنے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کارروائیوں میں شدت بھی لائی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG