رسائی کے لنکس

حکومتِ شام کا وفد جنیوا مذاکرات کی جانب لوٹ آیا


بشار الجعفری
بشار الجعفری

اٹھائیس نومبر کو، ڈی مستورا نے حکومت اور متحدہ حزب مخالف کے وفود کے ساتھ علیحدہ بات چیت کے لیے مذاکرات کا آٹھواں دور طلب کیا تھا، جس میں دھیان آئینی اصلاحات کے ساتھ ساتھ انتخابات پر مرکوز تھا

ایک ہفتے کی غیر حاضری کے بعد، شامی حکومت کا وفداتوار کے روز جنیوا مذاکرات کی جانب لوٹ آیا، جو اقوام متحدہ کے ثالث استفان ڈی مستورا کی قیادت میں جاری ہیں۔ تاہم، مغربی سفارت کاروں نے اِس بار پر شک و شبہے کا اظہار کیا ہے، آیا وفد بات چیت میں حصہ لینے پر رضامند ہوگا۔

اقوام متحدہ میں شام کے سفیر اور سربراہ مذاکرات کار، بشار الجعفری تقریباً سات برس سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کی تلاش کے خواہاں ہیں۔ وہ بیروت سے آنے والی پرواز میں جنیوا پہنچے، اور رائٹرز کا نمائندہ جو اسی پرواز سے سفر کر رہا تھا تھا، بتایا ہے کہ جب وہ اترے تو اُس وقت برفانی طوفان جاری تھا، اور جعفری نے بیان بازی سے گریز کیا۔

اٹھائیس نومبر کو، ڈی مستورا نے حکومت اور متحدہ حزب مخالف کے وفود کے ساتھ علیحدہ بات چیت کے لیے مذاکرات کا آٹھواں دور طلب کیا تھا، جس میں دھیان آئینی اصلاحات کے ساتھ ساتھ انتخابات پر مرکوز تھا۔

تاہم، جعفری ایک روز تاخیر سے آئے اور دو روز کے بعد واپس چلے گئے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ بات کرکے کہ شام کے عبوری سیاسی دور میں صدر بشار الاسد کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے، حزب مخالف نے مذاکرات کے ''راستے میں دھماکہ خیز مواد'' شامل کر لیا ہے۔

گذشتہ جمعرات کو ڈی مستورا نے اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ وہ اس ہفتے اس بات کا پتا لگائیں گے، آیا کوئی فریق اس عمل کو ''سبوتاژ'' تو نہیں کر رہا۔

ایک سینئر مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ''اپوزیشن ن ےانتہائی تعمیری انداز اپنا رکھا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ معاملات آگے بڑھیں''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''وہ (اپوزیشن والے) ایک مشکل مرحلے سے دوچار ہیں، جنھیں داخلی طور پر تنقید کا سامنا ہے اور یہ دبائو ہے کہ حکومت نے مشرقی غوطہ اور دیگر مقامات پر بم باری کا سلسلہ جاری رکھا ہے''۔

سفارت کار نے رائٹرز کو بتایا کہ پانچ دسمبر کی بات چیت میں حکومت کی جانب سے پہنچنے میں ناکامی ''ایک واضح اشارہ ہے کہ وہ سیاسی عمل میں شامل ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتی''۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے تجویز دے رکھی ہے کہ 2018ء میں روسی شہر، سوچی میں شام کے معاملے پر کانفرنس کا اہتمام کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG