رسائی کے لنکس

توہینِ عدالت کیس، طلال چوہدری کو وکیل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت


فائل فوٹو

طلال چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے وکیل مصروف ہوتے ہیں اس لیے اُنھوں نے تین ہفتوں کی مہلت مانگی ہے۔

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے وزیرِ مملکت برائے اُمورِ داخلہ طلال چوہدری کو توہینِ عدالت کیس میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے وکیل مقرر کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو جب اس معاملے کی سماعت شروع کی تو طلال چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ اُنھیں وکیل مقرر کرنے کے لیے تین ہفتوں کی مہلت دی جائے۔

اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ وکیل مقرر کرنے کے لیے ’’تین ماہ یا تین سال کیوں نہ دیے جائیں۔‘‘

طلال چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے وکیل مصروف ہوتے ہیں اس لیے اُنھوں نے تین ہفتوں کی مہلت مانگی ہے۔

تاہم عدالت نے طلال چوہدری کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت آئندہ منگل کو مقرر کردی ہے جس پر وزیرِ مملکت برائے اُمورِ داخلہ کو یہ جواب بھی داخل کرانا ہو گا کہ اُن کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں شروع نہ کی جائے۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر طلال چوہدری کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے کئی رہنما بشمول سینیٹر پرویز رشید اور وزیرِ مملکت طارق فضل چوہدری بھی موجود تھے۔

واضح رہے کہ عدالت پر تنقید کرنے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے طلال چوہدری کے علاوہ وفاقی وزیر دانیال عزیز کو بھی نوٹس جاری کیے تھے۔

دانیال عزیز کے معاملے کی سماعت بدھ کو ہو گی۔

طلال چوہدری نوٹس ملنے کے بعد اپنے بیانات میں کہتے رہے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی توہینِ عدالت نہیں کی اور نہ ہی اُن کے بیانات توہینِ عدالت کی نیت سے تھے۔

واضح رہے کہ رواں ہی پاکستان کی اعلٰی ترین عدالت نے

توہينِ عدالت کے ایک اور کيس میں سپریم کورٹ نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نہال ہاشمی کو ايک ماہ قيد کی سزا سناتے ہوئے اُنھیں عوامی عہدے کے لیے پانچ سال کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا۔

عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے نہال ہاشمی کی سینیٹ کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG