رسائی کے لنکس

افغانستان کے مستقبل کا دارومدار خود طالبان کے طرز عمل پر ہوگا، تجزیہ کار


کابل میں خواتین کا احتجاج (30 ستمبر، 2021)
کابل میں خواتین کا احتجاج (30 ستمبر، 2021)

اس حوالے سے کہ افغانستان میں طالبان کا کنٹرول قائم ہو جانے کے بعد پڑوسی ملکوں، خاص طور سے پاکستان میں اس کے کیا مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی مضمرات ہوں گے، ماہرین متنوع آراء رکھتے ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا زیادہ دار و مدار خود طالبان کے مستقبل کے رویوں پر ہے، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ صاحبان اختیار کو حالات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ وہ قوتیں جو مذہبی انتہا پسندی کو ملک میں فروغ دینا چاہتی ہیں وہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے چیرمین، خالد رحمان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جو عمومی مزاج ہے اس میں انتہا پسندی کو کچھ زیادہ پذیرائی نہیں ملتی۔

بقول ان کے، ''خود طالبان کی مثال بھی انتہا پسندی کی نہیں، بلکہ رد عمل کی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی جو انتہا پسندی ہمیں نظر آرہی ہے وہ رد عمل ہے ان چیزوں کا جو یا تو باہر کی دنیا سے مسلط کی جاتی ہیں یا خود پاکستان میں لیے گئے اقدامات اس کا سبب بنتے ہیں''۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کا تجربہ یہ ہے کہ سرکاری سطح پر ہونے والے اقدامات کے سبب اس قسم کی چیزیں آتی ہیں۔ لیکن عوامی رد عمل کے سبب انکا بڑا حصہ رک جاتا ہے اور انتہا پسندی کی کوئی باقاعدہ تحریک نہیں بن پاتی اور لوگ انتہا پسندی کی بجائے دوسرے طریقوں سے اپنا رد عمل ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان کا معاشرتی، سماجی اور ثقافتی نظام بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ اسکا انحصار طالبان کی آئندہ کارکردگی پر ہو گا۔ اگر انہوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اندرون ملک امن و امان کی صورت حال بہتر بنا سکے، عام لوگوں کے لئے بہتر مواقع پیدا کئے، معاشرے سے کرپشن کو ختم کر سکے، تو پاکستان میں عام آدمی کے لئے ان میں کشش پیدا ہو گی۔ اس لیے کہ اس حوالے سے پاکستان میں ایک خلاء پایا جاتا ہے کہ حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، نئی حکومتیں آتی ہیں لیکن زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، ان کے حالات نہیں بدلتے۔

مولانا طاہر اشرفی وزیر اعظم کے خصوصی نمائندے اور پاکستان علماء کونسل کے سربراہ ہیں۔ اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ''یہ طالبان نوے کی دہائی کے طالبان نہیں ہیں اور جب وہ واضح طور ہر کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی سر زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، تو میں نہیں سمجھتا کہ وہاں کے کوئی بھی عناصر کسی بھی طور پاکستان پر اثر انداز ہو سکیں گے''۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ٹھیک ہے کہ پاکستان کی دشمن قوتوں کے پاس یہ بہت بڑا ہتھیار ہے کہ وہ پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔ پاکستان کی ثقافتی اور سماجی اقدار کو تباہ کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ ان عناصر کو کوئی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ پاکستان کے اعتدال پسند مذہبی حلقے، عام لوگ اور سیکیورٹی ادارے ہر صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں ہر سطح پر کام ہو رہا ہے۔ یہ ایک مسلسل اور جاری عمل ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں طالبان کے وعدوں پر اعتماد کرنا چاہیے۔

سندھ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، فتح محمد برفت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے اب تک خود کو کنٹرول میں رکھا ہے۔ لیکن ظاہری بات ہے کہ طالبان کی جو تربیت ہے، ان کا جو 'مائنڈسیٹ' ہے، ان کا جو ایجنڈا ہے یا انکا جو 'مینی فیسٹو' ہے اس کے پیش نظر ان جیسے لوگوں کو یہ خطرہ ہے کہ آگے جا کر اس صورت حال کے پاکستان ہر اثرات بہت خطرناک ہوں گے، کیونکہ پاکستان میں پہلے سے انتہا پسند افراد اور تنظیمیں موجود ہیں، جن کے لئے طالبان کی کامیابی ایک اچھی خبر ہے۔

انہوزن نے کہا کہ طالبان کا آنا اس حد تک تو صحیح ہے کہ افغانستان پر حکومت کرنا افغانوں کا حق ہے۔ لیکن، انہوں کہا کہ انہیں خدشات ہیں کہ پاکستان پر اس کے اثرات دیر تک مثبت نہیں رہیں گے۔ اس لئے ارباب حل و عقد کو حالات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG