رسائی کے لنکس

ایف آئی اے نے 1200 افغان پناہ گزینوں کو بے دخل کر دیا، پاسپورٹ ایکٹ کے تحت 40 پاکستانی گرفتار


چمن میں پاکستان افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی کا ایک اہلکار کاغذات کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے غیر قانونی طور پر افغانستان جانے والے 40 سے زائد پاکستانی باشندوں کو پاسپورٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے مقدمات درج کر لیے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی حکام نے بغیر دستاویزات کے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان آنے والے ہزاروں کی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان بھجوایا ہے۔

چمن میں ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحدی علاقے چمن میں افغان پناہ گزینوں کی غیر قانونی آمد و رفت کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے پاکستان نے چمن میں باب دوستی سیکورٹی اور اسکیننگ کے نظام کو مزید سخت کردیا گیا۔

بلوچستان کے علاقے چمن میں پاکستان افغانستان کی سرحد پر بابِ دوستی پر دوسری جانب اسپن بولدک پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بھی دونوں ممالک سے لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

حکام کے مطابق، دونوں جانب سے روزانہ 20 ہزار کے قریب افراد کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ افغانستان سے صرف سرحدی علاقے اسپن بولدک کے باشندے ہی پاکستان میں داخل ہوسکتے ہیں، جبکہ پاکستان سے چمن کے رہائشی افراد ہی کاروبار کے لیے افغانستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گزشتہ دنوں چمن سرحد پر حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے 4 کروڑ روپے اور امریکی ڈالر برآمد کیے گئے ہیں۔

ادھر چمن میں باب دوستی پر اسلحہ اور جعلی شناختی کارڈ کے جرم میں بھی متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کو چمن شہر میں پولیس اور لیویز کے حوالے کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے روزانہ غیر قانونی طور پر پاکستان آنے والے 1 ہزار سے 12 سو کے قریب پناہ گزینوں کو ایف آئی اے نے سرحد سے ہی واپس وطن بھیج دیا ہے۔

واضح رہے کہ ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ دار خان مندوخیل نے گزشتہ ماہ ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں پاکستان میں داخل ہونے والے افغان شہریوں کے لیے ضروری ہدایات درج تھیں۔

اس ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ وہ افغان شہری جو افغانستان سے باب دوستی کے راستے افغان دستاویزات، جس کو تزکیرہ بھی کہا جاتا ہے، کے ذریعے پاکستان آتے ہیں انہیں صرف چمن اور قلعہ عبداللہ کی حدود تک آنے کی اجازت ہے۔

افغان شہریوں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اگر انہوں نے کوئٹہ جانے کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا جائے گا۔

گزشتہ دنوں کوئٹہ میں بھی ضلعی انتظامیہ نے مقامی شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر کسی نے غیر قانونی طور پر آنے والے افغان پناہ گزینوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لا کر انہیں گرفتار کیا جائے گا۔

رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کی حکومت نے کوئٹہ، پشین، کچلاک کے علاوہ کراچی سے گرفتار کئے گئے 700 افغان پناہ گزینوں کو واپس کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ڈی پورٹ کئے گئے پناہ گزینوں کی تعداد 1200 کے قریب ہے۔

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ بعض افغان پناہ گزین خاندان رضاکارانہ طور پر واپس افغانستان لوٹ رہے ہیں۔ روزانہ 8 سے 10 خاندان پاک افغان سرحد سے افغانستان میں داخل ہورہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان خاندانوں میں سے اکثریت کا تعلق افغان طالبان کے عزیز و اقارب سے ہے جو طالبان کی حکومت سنبھالنے کے بعد رضاکارانہ طور پر وطن واپس جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG