رسائی کے لنکس

خدشہ ہے کہ طالبان 90 دنوں میں کابل پر قبضہ کر سکتے ہیں، انٹیلی جنس رپورٹ


طالبان کے خوف اور لڑائیوں کی وجہ سے قندوز سے فرار ہو کر کابل کے شہرنو پارک میں پناہ لینے والی خواتین کا ایک گروپ ۔ 10 اگست 2021

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان عسکریت پسند افغانستان کے دارالحکومت کابل کو 30 روز میں الگ تھلگ کرنے کے بعد تقریباً 90 دنوں میں ممکنہ طور پر اس پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ، امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بدھ کے روز امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے بتایا کہ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے دوران ملک بھر میں طالبان کی فتوحات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کابل کتنے عرصے تک اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا۔

مگر اس عہدے دار نے مزید کہا کہ یہ حتمی نتیجہ نہیں ہے۔ افغان فورسز اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھا کر طالبان کی پیش رفت کو پلٹ بھی سکتی ہیں۔

اس سے قبل منگل کے روز یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا تھا کہ اسلام پسند عسکری گروپ ملک کے 65 فی صد علاقے پر قابض ہو چکا ہے اور اس نے 11 صوبائی دارالحکومتوں پر یا تو کنٹرول حاصل کر لیا ہے یا وہ اس کے نشانے پر ہیں۔

امریکی عہدے دار نے یہ بھی تصدیق کی کہ بدھ تک 8 صوبائی صدر مقام طالبان کے قبضے میں جا چکے تھے۔

افغانستان کے دارلحکومت کابل کو جانے والے تمام راستے لوگوں کے اژدہام سے اٹے پڑے ہیں جو ملک کے دیگر علاقوں میں جاری لڑائی اور طالبان کے خوف سے فرار ہو کر پناہ کی تلاش میں وہاں جا رہے ہیں۔

لڑائیوں سے بچنے کے لیے تخار اور قندوز سے فرار ہو کر کابل میں پناہ لینے والے کچھ خاندان۔ 9 اگست 2021
لڑائیوں سے بچنے کے لیے تخار اور قندوز سے فرار ہو کر کابل میں پناہ لینے والے کچھ خاندان۔ 9 اگست 2021

مغربی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حالات میں یہ کہنا دشوار ہے کہ آیا مہاجرین کے بھیس میں طالبان بھی کابل میں داخل ہو رہے ہیں یا نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ "خدشہ یہ ہے کہ خودکش بمبار سفارتی علاقے میں داخل ہو کر تخریب کاری نہ کریں، جس کی وجہ سے ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ جسے جتنی جلد موقع ملے، کابل سے چلا جائے"۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز افغانستان کے شمال صوبے بدخشاں کا صدر مقام فیض آباد بھی طالبان کے ہاتھ میں چے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے، جسے کابل حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکہ سمجھا جا رہا ہے جو وہاں طالبان کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

بدخشاں کی صوبائی کونسل کے ایک رکن جواد مجددی نے بتایا ہے کہ طالبان نے منگل کے روز فیض آباد پر حملہ کرنے سے قبل شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ بدخشاں کے جانے سے شمال مشرق کا پورا علاقہ طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔

بدخشاں صوبے کی سرحدیں چین، پاکستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں۔

طالبان کی پیش قدمی کی رفتار نے کابل حکومت اور اس کے حامیوں کو ششدر کر دیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ 20 برسوں کے دوران افغان فوج کی تربیت، حربی سامان اور ملک کے دیگر شعبوں کی ترقی پر ایک ٹریلن ڈالر صرف کیے ہیں۔ اب افغانستان کو اپنا دفاع خود کرنا ہے۔

امریکی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان فوج اپنی تعداد، تربیت اور سامان حرب کے لحاظ سے طالبان عسکریت پسندوں سے کہیں آگے ہے اور وہ ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

افغانستان سے امریکی قیادت کی غیر ملکی افواج کا انخلا اس ماہ کی 31 تاریخ کو مکمل ہو رہا ہے۔ تاہم، امریکی طیارے اب بھی طالبان کے خلاف لڑائیوں میں کابل حکومت کی فورسز کی مدد کر رہے ہیں۔

افغانستان کی صورت حال سے متعلق انٹیلی جنس کے تجزیے سے آگاہ امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے کئی ممکنہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن میں طویل جنگ اور طالبان اور کابل کی موجودہ حکومت کے درمیان گفت و شنید کے بعد کسی معاہدے پر پہنچنا شامل ہے۔

ایک طالبان رہنما نے رائٹرز کو بتایا کہ منگل کے روز طالبان کے سیاسی قائد ملا عبدالغنی برادر نے افغان امن عمل کے لیے امریکہ کے خصوصی سفارت کار زلمے خلیل زاد سے ملاقات کی ۔تاہم اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

صدر اشرف غنی مرکزی حکومت کو طاقت ور بنانے کے لیے ماضی میں جن جنگی سرداروں کو نظر انداز کرتے رہے ہیں، اب انہوں نے ان ہی سے مدد کی اپیل کی ہے۔

لیکن اس بار حالات مختلف ہیں۔ طالبان کے گزشتہ دور اقتدار میں ملک کا زیادہ تر شمالی علاقہ ان کی دسترس سے باہر تھا، جب کہ اس مرتبہ طالبان نے سب سے پہلے شمالی علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا ہے جہاں سے انہیں آئندہ دنوں میں مزاحمت کا خطرہ تھا۔

طالبان اس وقت جن سرحدی اضلاع پر قابض ہو چکے ہیں ان کی سرحدیں تاجکستان، ازبکستان، چین، ایران اور پاکستان سے ملتی ہیں جس سے علاقائی سیکیورٹی کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

افغانستان کو مزید خون ریزی اور افراتفری سے بچانے کے لیے عالمی طاقتیں سرگرم ہو گئی ہیں۔ قطر کے دارلحکومت دوحہ میں روس، چین، امریکہ اور پاکستان کے وفود کے درمیان اجلاس میں افغانستان کی صورت حال اور اس تنازع کے فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور کسی سیاسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوششوں پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

[اس رپورٹ میں درج معلومات خبر رساں ادارے رائٹرز سے لی گئی ہیں]

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG