رسائی کے لنکس

logo-print

بال خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ نل کا پانی ہے: ماہرین


نل کے پانی میں قدرتی طور پر دھاتیں شامل ہوتی ہیں لیکن اس پانی میں زیادہ بڑی مقدار میں وہ جمع شدہ دھاتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں جو ہماری پائپ لائنوں میں اور گھر کی گرم پانی کی ٹنکی میں بہت عرصے سے جمع ہو رہی ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سر کے بالوں کی خرابیوں کی اصل وجہ گھر کے نلکوں سے آنے والا پانی ہے جس میں نل کے جمع شدہ پیتل کی ایک بڑی مقدار شامل ہوجاتی ہے جو بالوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

'انٹرنشنل جرنل کاسمیٹکس اینڈ سائنس' میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ بالوں کی جڑوں کا کمزور ہونا، بالوں کے سِروں کا دو منہ ہونا اور بے جان نظر آنے کی شکایات کا اصل سبب نل کا پانی ہے۔

یہ تحقیق بین الاقوامی کمپنی ' پروکٹر اینڈ گیمبل' کی ایک سائنسدان جینیفر مارش کی نگرانی میں ہوئی جن کا کہنا ہے کہ ، ’نل کے پانی میں قدرتی طور پر دھاتیں شامل ہوتی ہیں لیکن اس پانی میں وہ جمع شدہ دھاتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں جو ہماری پائپ لائنوں میں اور گھر کی گرم پانی کی ٹنکی میں بہت عرصے سے جمع ہو رہی ہوتی ہیں۔ جب یہ پانی سر دھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ دھاتیں آہستہ آہستہ ہمارے بالوں میں جمتی چلی جاتی ہیں جو بالوں کو بتدریج متاثر کرتی رہتی ہیں جس سے بال بکھرے بکھرے نظر آتے ہیں۔‘

ڈاکٹر مارش کہتی ہیں کہ اچھے سے اچھے کنڈیشنرز اور آئل کا استعمال بالوں کی اس خرابی کو دور نہیں کر سکتا ہے بلکہ جب بالوں کی بہتر نگہداشت کے لیے سیلون کا رخ کیا جاتا ہے تو اس سے ڈرائی ہیئر رکھنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نل سے آنے والے پانی میں اگرچہ بہت بھاری مقدار میں پیتل شامل نہیں ہوتا لیکن ہمارے بال اسے ایک اسفنج کی طرح جذب کرتے رہتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بالوں پر پیتل کی ایک تہہ سی جم جاتی ہے اور پھر جب ہیئر کلر کے ستعمال سے متاثرہ بالوں پر پیتل اثر انداز ہوتا ہے تو اس سے ایک کیمیائی ری ایکشن پیدا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مارش کے مطابق، ''جس طرح سورج کی مضر کرنوں کے اثرات دھوپ میں زیادہ دیر رہنے والے شخص کی جلد پر ظاہر ہونے لگتے ہیں اسی طرح بالوں میں جمع ہونے والی یہ دھاتیں آہستہ آہستہ بالوں کو متاثر کرتی ہیں۔ نتیجتاً بال کمزورہوجاتے ہیں اوربرش کرنے، سر دھونے یا ہیئر ڈرائی کرنے پر ٹوٹنے لگتے ہیں بلکہ ان کی چمک بھی ماند پڑ جاتی ہے اور ایسے بکھرے بکھرے بالوں کو بنانے میں کافی دشواری پیش آتی ہے۔''

ڈاکٹر مارش اور ان کی ٹیم نے اس تحقیق کے لیے دنیا بھر سے 450 خواتین کا انتخاب کیا۔ تجزیئے کے دوران ان خواتین کے بالوں میں پیتل کی مختلف مقدارمیں موجودگی کا ثبوت ملا۔ زیادہ تر خواتین کے بالوں کے ایک ملین مالیکیول میں 20 سے 200 تک پیتل کے ذرّے کی موجودگی پائی گئی جبکہ کچھ خواتین کے سر کے بالوں میں یہ شرح 500 پیتل کے ذرّوں کے برابر تھی.
وہ کہتی ہیں کہ بالوں میں جمع ہونے والی دھاتیں بالوں کی اوپری سطح کو متاثر کرتی ہیںجو دن بدن بالوں کو روکھا اور بے روبق بناتے ہیں۔

ڈاکٹر جینی تھامس جو مشہور شیمپو کمپنی کی سائنسدان ہیں کہتی ہیں کہ، ''ہر شخص کے بالوں میں پیتل کی مقدارموجود ہوتی ہے لیکن بالوں میں پیتل کی بھاری مقدار میں موجودگی تشویش کا باعث ہے پیتل سے بالوں کو پہنچنے والے نقصان کو ہم مائیکرواسکوپ سے نہیں شناخت کر سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر اس وجہ کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔''
XS
SM
MD
LG