رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں ٹی پارٹی کی مقبولیت


ٹی پارٹی پورے امریکہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اس روز ڈی سی پہنچے جب پورے امریکہ کے لیے ٹیکس فائل کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ اور یہی ٹی پارٹی کا بنیادی منشور ہے۔ کین ہوگ لینڈ کہتے ہیں کہ ہمارا ٹیکس سسٹم انتہائی فرسودہ اور بیکار ہے۔ ہم سے پیسے لےکر واشنگٹن ڈی سی کے خرچے پورے کیے جاتے ہیں۔
ٹی پارٹی کے ممبران کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ امریکہ کی صورتحال کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ سکاٹ میریلی کا کہناہے کہ اس سسٹم کے ساتھ بہت سے مسائل منسلک ہیں۔ ہم اسے اس طرح کا بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ یہ تھا۔ تاکہ ہمارے بچے بھی اس آزادی کا احساس کر سکیں جو ہمیں میسر تھی۔
ان کے اٹھائے گئے پلے کارڈز پر ہیلتھ کئیر اور صدر اوباما کے خلاف نعرے درج ہیں۔ جبکہ کچھ جگہوں پر لوگوں نے ان نعروں سے اختلاف بھی کیا۔ رابرٹ برینن کا کہناتھا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تحریک صدر اوباما کے خلاف نہیں ہے۔ ان پلے کارڈز پر درج نعرے امریکہ کو متحد کرنے کے لیے نہیں ہیں۔
ٹی پارٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ ان کی عمریں کیا ہیں وہ اپنا مطالبہ نومبر میں ہونے والے کانگریشنل الیکشنز میں لے کر جائیں گے۔ میری لین ہنرٹی کہتی ہیں کہ میری عمر اکتہر سال ہے اور مجھے جوڑوں کا درد رہتا ہے لیکن اس کے باوجود میں ٹی پارٹی کے ذریعے اپنا پیغام پہنچانا چاہتی ہوں۔
پیٹر براؤن کا کہنا تھا کہ بات یہ نہیں ہے کہ یہ کون ہیں۔ بات یہ ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی باتوں کی وجہ سے زیادہ قدامت پسند لگتے ہیں۔ انہیں conservative ری پبلکنز کا نام دینا مناسب ہوگا۔
ریپبلکن امیدوار ٹی پارٹی کی مذمت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو گمان ہے کہ یہ تحریک اپنے امیدوار سامنے لائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو conservative ووٹ ٹوٹ جائیں گے اور یہ بات ری پبلکنز کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔
ویس بینڈکٹ ، Libertarians کے ڈائریکٹر ہیں۔ ایک ایسی سیاسی جماعت جو چھوٹی حکومت، کم ٹیکسوں اور شہری آزادی پر یقین رکھتی ہے۔
انکا کہنا ہے کہ ریپبلکنز کو ٹی پارٹی کے ساتھ انضمام کا حق نہیں حاصل۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ریپبلکنز کو کانگریس اور صدارتی محل کا کنٹرول حاصل تھا تب انہوں نے بھی بے دریغ پیسا لٹایا تھا۔ اب ریپبلکنز کا صدر اوباما پر بے جا اخراجات کا الزام لگانا کچھ مناسب نہیں معلوم ہوتا۔
یہ ریلی وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس کے درمیان منعقد ہوئی۔ اور ان عمارتوں کے درمیان سے گزری جن کی بنائے ہوئے قوانین پر ٹی پارٹی کو اعتراض ہے۔ اب جبکہ ان کے سینتالیسویں شہر کا دورہ مکمل ہوگیا ہے ماہرین ان کے اگلے لائحہِ عمل کا انتظار کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG