رسائی کے لنکس

امریکی جنگی جہاز آئل ٹینکر سے ٹکرا گیا، 10 اہلکار لاپتا


گزشتہ دو ماہ میں امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے میں شامل کسی جنگی جہاز کی بحرالکاہل میں کسی مال بردار جہاز سے ٹکر کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کے سنگاپور کے نزدیک ایک مال بردار بحری جہاز سے ٹکرانے کے نتیجے میں بحریہ کے 10 اہلکار لاپتا اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔

امریکی بحریہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ساتویں بحری بیڑے میں شامل جنگی جہاز 'یو ایس ایس جان ایس مکین' پیر کو علی الصباح لائبیریا کے ایک آئل ٹینکر 'ایلنک ایم سی' سے ٹکراگیا۔

گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی جہاز معمول کے گشت پر سنگاپور کی بندرگاہ جارہا تھا۔ بیان کے مطابق ٹکر سے جنگی جہاز کو نقصان پہنچا ہے لیکن وہ اپنے تئیں سنگاپور کی بندرگاہ تک پہنچ گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق حادثے کے وقت 'ایلنک ایم سی' پر 12 ہزار ٹن تیل لدا ہوا تھا جو جہاز تائیوان سے سنگاپور لے جارہا تھا۔

آئل ٹینکر کے عملے کے مطابق حادثے کے نتیجے میں جہاز سے تیل کا اخراج نہیں ہوا ہے اور نہ ہی عملے کا کوئی فرد زخمی ہوا ہے۔

امریکی فوج کے ساتویں بحری بیڑے کے حکام نے کہا ہے کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر لاپتا ہونے والے اہلکاروں کو تلاش کر رہے ہیں۔

حادثے میں زخمی ہونے والے پانچ اہلکاروں میں سے چار کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے طبی امداد کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا ہے۔

اہلکاروں کی تلاش کے مشن کے لیے ملائیشیا نے اپنے دو بحری جہاز علاقے میں بھیج دیے ہیں جب کہ امریکی جہازوں کے ساتھ ساتھ سنگاپور کے بحری جہاز، ہیلی کاپٹر اور کشتیاں بھی سرچ مشن میں مصروف ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سینئر ری پبلکن سینیٹر جان مکین نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ وہ متاثرہ جہاز پر تعینات نیول اہلکاروں کے لیے دعاگو ہیں۔

حادثے کا شکار ہونے والا بحری جہاز سینیٹر جان مکین کے والد اور ان کے دادا سے منسوب ہے جو دونوں امریکی بحریہ میں ایڈمرل تھے۔

گزشتہ دو ماہ میں امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے میں شامل کسی جنگی جہاز کی بحرالکاہل میں کسی مال بردار جہاز سے ٹکر کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

جون میں امریکی جنگی جہاز 'یو ایس ایس فٹز جیرالڈ' جاپان کے نزدیک ایک مال بردار جہاز سے ٹکراگیا تھا۔ حادثے میں امریکی بحریہ کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

گزشتہ ہفتے امریکی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ حادثے کی تحقیقات میں جہاز کے عملے کی غفلت ثابت ہوگئی ہے جس کے بعد جہاز کے کیپٹن کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے جب کہ دیگر اہلکاروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جارہی ہے۔

کھلے سمندر میں جنگی اور مال بردار جہازوں کی ٹکر کے واقعات بہت کم رونما ہوتے ہیں۔ بحری تاریخ دانوں کے مطابق فٹز جیرالڈ کو پیش آنے والے واقعے سے قبل اس نوعیت کا آخری واقعہ لگ بھگ 50 سال قبل پیش آیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG