رسائی کے لنکس

کسی بھی مرد سے پوچھ لیجئے کہ اس نے کتنی شادیاں کی ہیں، تو جواب ملے گا 2 شادیاں کی ہیں، کچھ کہیں گے تین شادیاں کی ہیں۔ اتنی شادیوں کی وجہ پوچھیں تو جواب ملے گا: ’ایک بیوی زچگی کے دوران، دوسری ڈیلیوری کے بعد مر گئی۔ اس لئے تیسری شادی کر لی

تھر کے بہت سے بے در و دیوار گھروں میں بسی عورتیں بھوک سے نہیں زچگی کے دوران مر جاتی ہیں۔ کسی بھی خاتون سے پوچھئے ’’آپ کے کتنے بچے ہیں؟‘‘، تو وہ جواب دے گی ’’تین بچے ضائع ہوگئے، 2 پیدا ہوتے ہوتے مر گئے، ایک پیدائش کے تین سال بعد چل بسا۔۔ پانچ ابھی میرے ساتھ ہیں۔‘‘

’’یہاں ایسی کوئی عورت نہیں جس کے ساتھ ایسا نہ ہوا ہو۔ ان واقعات کی تو وہ جیسے پروا بھی نہیں کرتیں۔‘‘ کسی عورت کے ’مضبوط‘ اور ’بہادر‘ ہونے کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے۔

سندھ کی تاریخ، جغرافیہ اور موجودہ حالات پر گہری تحقیق رکھنے والے اور کئی دستاویزی فلموں کے مصنف، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر امر محبوب نے وی او اے کو بتایا ’’یہ تو عورتوں کا احوال ہے، مردوں کی باتیں اس سے بھی انوکھی لگیں گی۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ’’مثال کے طور پر کسی بھی مرد سے پوچھ لیجئے کہ اس نے کتنی شادیاں کی ہیں تو جواب ملے گا 2 شادیاں کی ہیں، کچھ کہیں گے تین شادیاں کی ہیں۔ اتنی شادیوں کی وجہ پوچھیں تو جواب ملے گا: ’’ ایک بیوی زچگی کے دوران اور دوسری ڈیلیوری کے بعد مرگئی۔ اس لئے تیسری شادی کر لی۔‘‘

اگرچہ گفتگو کا یہ انداز آپ کو بہت مختلف لگے گا۔ ہو سکتا ہے دلچسپ اور مزاحیہ سا بھی لگا ہو۔ لیکن، یہ تمام باتیں نہایت سنجیدہ اور فکر انگیز ہیں۔ بغور دیکھیں تو یہ باتیں اس جانب نشاندہی کرتی ہیں کہ سندھ میں زچگی کے دوران اموات کی شرح کس قدر زیادہ اور تشویشناک ہے۔

سندھ کے شہر رانی پور سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر صحافی مختار جونیجو نے وائس آف امریکہ سے تبادلہٴخیال میں اس بات کی تصدیق کی کہ سندھ میں میٹرنٹی کی حالت واقعی بہت خراب ہے۔ اب سے دس، بارہ سال پہلے تو یہاں تک ہوتا رہا کہ خواتین کو بچوں کی محفوظ پیدائش کے لئے کوئی سہولت میسر نہیں تھی۔ خواتین زچگی سے کچھ لمحوں پہلے تک کام میں جتی رہتی تھیں۔ آرام کرنا تو دور کی بات بچے کی پیدائش کے دوسرے دن سے ہی انہیں دوبارہ کام کاج سنبھالنا پڑتا تھا۔‘‘

امر محبوب کے بقول ’’تھر میں سب سے مشکل کام صبح سویرے اور شام کو میلوں پیدل چل کر پانی لانا ہے۔ خواتین پانی بھرنے کے لئے کنویں پر جاتی تھیں اور دوران سفر جنگل میں یا سر راہ بچہ پیدا ہوجاتا تھا۔ آج بھی ایسی بہت سی خواتین ہیں جو جنگل میں لکڑیاں جمع کرنے کے لیے کام پر نکلیں اور اسی حالت میں وہیں پر ڈیلیوری کرائی اور بچہ لے کر گھر آگئیں۔ تاہم، وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ بہتری آئی ہے۔‘‘

سخت معمولاتِ زندگی
تھر کی بیشتر عورتیں صبح پانچ بجے اُٹھ جاتی ہیں۔ مال مویشی سنبھالتی ہیں، ان کا دودھ دھوتی اور چارے کا انتظام کرتی ہیں۔اس کے بعد گھر والوں کے لئے ناشتہ بناتی ہیں۔ مردوں کے کاموں پر جانے کے ساتھ ہی وہ بھی میلوں دور کنویں سے پانی لینے چلی جاتی ہیں۔ تھر میں کنویں دور، دور واقع ہیں اس لئے خواتین کو کبھی دو کلومیٹر اور کبھی پانچ کلو میٹر دور جا کر پانی لانا پڑتا ہے۔ ایسے بھی گاؤں ہیں جہاں 8 کلو میٹر تک جا نا پڑتا ہے۔

پانی گھر لانے کے بعد وہ دوپہر کا کھانا بناتی ہیں اور کھانے کے بعد آٹا چھاننا یا سلائی کڑھائی کا کام کرنا پڑتا ہے، کیوں کہ جس خاتون یا لڑکی کو یہ کام نہیں آتا یا وہ نہیں کرتی اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اس کام میں دھائی سے تین گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کے بعد شام کی چائے پی جاتی ہے اور پھر ان خواتین کو ہی پانی لینے دوبارہ کنویں تک میلوں پیدل جانا ہوتا ہے۔

رات سے کچھ پہلے تمام جانور یا مال مویشی گھر واپس آجاتے ہیں۔ خواتین ہی دوبارہ ان کا دودھ نکالتی ہیں۔ انہیں چارہ کھلاتی اور تیار کرتی ہیں۔ بچوں، مردوں اور باقی گھر والوں کو رات کا کھانا پکا کر کھلانا بھی انہی کی ذمے داری ہوتی ہے جبکہ سات سے آٹھ بجے کے درمیان رات ہوجاتی ہے جبکہ بارشوں کا سیزن ہو تو ان عورتوں کو صبح گیارہ بجے تک ہر حال میں گھر کا کام ختم کرکے کھیتوں میں جانا اور وہاں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔

اسی لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تھر کی عورت کبھی تھکتی نہیں۔ وہ ’موم کی مریم‘ بھی نہیں کہ زرا سی دھوپ میں پگھل جائے۔ اس محنت اور مشقت کے باوجود موم کی اس گڑیا کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ واقعی نظر انداز کئے جانے کے قابل ہے؟ کیا اس پر خاموش رہا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، لیکن ستم یہ ہے کہ انگنت مردوں کے اس معاشرے میں بولتا بھی کوئی نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG