رسائی کے لنکس

باجوڑ کے سرحدی علاقے میں بم دھماکہ، تین افراد ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل

دھماکہ اس وقت ہوا جب جمعے کی صبح مزدور علاقے میں فوج کی نگرانی میں سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے۔

افغانستان کے ساتھ منسلک پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے ایک سرحدی گاؤں میں ایک بم دھماکے سے کم از کم تین افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکہ تحصیل ناوگئی کے سرحدی علاقے چار منگ کے گاؤں مٹاک میں اس وقت ہوا جب جمعے کی صبح مزدور علاقے میں فوج کی نگرانی میں سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے۔

حکام کے مطابق جمعے کو ہونے والا دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ 20 زخمی ہوئے جنہیں ناوگئی کے سول اسپتال اور خار کے ایجنسی ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال میں دورانِ علاج دھماکے کا ایک زخمی دم توڑ گیا ہے جب کہ حکام کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

حکام کے مطابق بم دیسی ساختہ تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بلاسٹ کیا گیا۔ ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ باجوڑ سے ملحق افغانستان کے سرحد ی صوبے کنڑ میں ان عسکریت پسندوں نے پناہ گاہیں قائم کی ہوئی ہیں جو پاکستانی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے باعث سرحد پار کر گئے ہیں۔

یہ عسکریت پسند وقتاً فوقتاً باجوڑ اور ملحقہ مہمند ایجنسی کے علاوہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں سکیورٹی فورسز، حکومت کے وفادار قبائل اور سرکاری تنصیبات پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستانی فوج مختلف مقامات پر چوکیاں تعمیر کر رہی ہے جبکہ سرحدی گزر گاہوں کے دونوں جانب باڑ بھی لگائی جارہی ہے تاکہ سرحد پار غیر قانونی آمد و رفت کو روکا جاسکے۔

افغانستان کی حکومت کو سرحد پر باڑ لگانے کے پاکستان کے فیصلے پر سخت تحفظات ہیں اور وہ اس کی شدید مخالفت کرتی رہی ہے۔

باڑ لگانے کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے واقعات بھی پیش آچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG