رسائی کے لنکس

لندن: چار مسلم نوجوانوں پر فردِ جرم عائد


فائل

لندن میں جرائم کی سماعت کرنے والی وسطی عدالت نے 29 برس کے نوید علی، 25 سال کے شبیب حسین اور 33 برس کے محب الرحمٰن کو دہشت گردی کی سازش تیار کرنے کا قصور وار قرار دی

اپنے آپ کو ’تھری مسکیٹئرز‘ کہلانے والے تین برطانوی افراد کو بدھ کے روز برطانوی پولیس کے خلاف دہشت گرد حملے کا منصوبہ تیار کرنے کا مجرم قرار دیا گیا۔

لندن میں جرائم کی سماعت کرنے والی وسطی عدالت نے 29 برس کے نوید علی، 25 سال کے شبیب حسین اور 33 برس کے محب الرحمٰن کو دہشت گرد حرکات کی سازش تیار کرنے کا قصور وار قرار دیا، جس سے قبل مقدمے کی سماعت جاری رہی، جس میں سے کچھ کارروائی خفیہ رکھی گئی۔

چوتھے ملزم، 38 برس کے طاہر عزیز کو بھی قصور وار پایا گیا۔ اُن کے بارے میں، وکیل استغاثہ نے بتایا کہ وہ اس سازش کے آخری مراحل میں شامل ہوا۔

مقدمے کی پیروی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تینوں مجرمان کا یہ گروپ ’چیٹ ایپلیکیشن‘ میں اپنا تعارف ’تھری مسکیٹئرز‘ کے طور پر کیا کرتا تھا، اُن کی ملاقات تب ہوئی جب دہشت گردی کے جرائم پر وہ قید کاٹ رہے تھے۔ برطانیہ کا داخلی انٹیلی جنس ادارہ، ایم آئی 5، اُن کی نگرانی کرتا رہا ہے جنھیں اگست 2016ء میں حراست میں لیا گیا۔

Britain London Bridge Attack
Britain London Bridge Attack

برطانوی پولیس نے گزشتہ اگست میں ایک جعلی ’کوریئر سروس‘ تشکیل دی جس میں حسین اور علی کو ملازم رکھا گیا، تاکہ اِن لوگوں کی کاروں کی تلاشی لی جاسکے، جہاں سے انھیں ’پائپ بم‘ بنانے کے نشانات ملے، جب کہ قصائی کا چھرا برآمد ہوا، جس پر لفظ ’کافر‘ کندہ تھا۔

وکلائے صفائی نے علی اور رحمٰن کے مقدمے کی صیغہٴ راز میں سماعت کے فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے۔ اُن کے وکیل، راجیو مینن نے کہا ہے کہ اس فیصلے کا مقدمے کی تیاری کی ہماری صلاحیت پر نقصاندہ اثر پڑا‘‘۔

مدعی نے اِن الزامات کو مسترد کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ایک نے چیخ کر کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ آپ اپنے جھوٹ پر خوش ہو۔ ایک بے پَر کی بات پر‘‘۔ مقدمے کے فیصلے کے بعد، مجرمان کو جیل لے جایا جارہا تھا۔

جمعرات کو چاروں مجرمان کے خلاف باضابطہ طور پر فیصلہ سنایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG