رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں سیاحتی مقامات کھل گئے، کیا احتیاطی تدابیر پر عمل ہو رہا ہے؟


پاکستان میں کرونا کیسز کم ہونے پر حکومت نے کئی سیاحتی مقامات کھول دیے ہیں

حکومتِ پاکستان کی طرف سے کرونا وائرس کے باعث سیاحتی مقامات پر عائد پابندیں کے خاتمے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد صوبہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے پر فضا علاقوں کا رُخ کر رہی ہے۔

گلگت بلتستان کی انتظامیہ نے سیاحوں کے لیے کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ لازمی قرار دے دی ہے، جب کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے 'ببل ٹورازم' کے تحت مخصوص افراد کو مخصوص علاقوں تک سیاحت کے لیے رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے سبب ہر قسم کی سیاحت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے سیاحت کی صنعت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔

خیال رہے کہ پندرہ لاکھ کی آبادی اور 28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا گلگت بلتستان کا علاقہ نہ صرف مقامی بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی اولین ترجیح ہوتا ہے۔

ببل ٹورازم کیا ہے؟

صوبہ خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل 'ٹورازم کلچر اینڈ اسپورٹس' جنید خان کے مطابق صوبائی انتظامیہ تمام سیاحوں کو خوش آمدید کہتی ہے۔ تاہم سیاحوں کو صوبائی انتظامیہ کے جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق مکمل تعاون کرنا چاہیے۔

ببل ٹورازم کی وضاحت کرتے ہوئے جنید خان کا کہنا تھا کہ عام حالات میں تمام افراد کو ہر جگہ جانے کی اجازت ہوتی ہے لیکن مخصوص تعداد میں افراد کو مخصوص علاقوں تک رسائی ‘ببل ٹورازم’ کہلاتی ہے۔

پندرہ لاکھ کی آبادی اور 28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا گلگت بلتستان کا علاقہ نہ صرف مقامی بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیے اولین ترجیح ہوتا ہے۔ (فائل فوٹو)
پندرہ لاکھ کی آبادی اور 28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا گلگت بلتستان کا علاقہ نہ صرف مقامی بلکہ دیگر ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیے اولین ترجیح ہوتا ہے۔ (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے جنید خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں جو ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری ہے، حکومت ان کے عملے کے لیے تربیت کا اہتمام بھی کر رہی ہے۔

ان کے بقول اس ٹریینگ میں ہوٹل انڈسٹری کے علاوہ ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنٹس کو بھی شامل کیا جائے گا جس میں انہیں ایس او پیز پر عمل کرانے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چوںکہ ٹورازم انڈسٹری کافی عرصے سے بند تھی تو اس لیے حکومت کی کوشش ہو گی کہ باقی ماندہ موسمِ گرما کے سیزن میں اس انڈسٹری سے وابستہ افراد کو آمدنی کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے۔

احسن علی کا تعلق ہزارہ ڈویژن کے علاقے ایبٹ آباد سے ہے۔ وہ اپنی فیملی کے ہمراہ جشنِ آزادی کے موقع پر گلگت بلتستان کے لیے روانہ ہوئے، لیکن ان کی گاڑی کو راستے میں ہی روک لیا گیا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں کرونا نیگیٹو سرٹیفیکیٹ کے بارے میں علم نہیں تھا۔ اس لیے انہیں گلگت بلتستان کی انتظامیہ آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ اس لیے اب وہ مجبوراً اپنی فیملی کو ناران لے کر جا رہے ہیں لیکن وہاں بہت زیادہ رش ہے۔

دوسری طرف گلگت بلتستان کے ایک ہوٹل منیجر رانا سلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تمام احتیاطی تدابیر پر نہ صرف وہ خود عمل کر رہے ہیں۔ بلکہ سیاحوں سے بھی ان پر عمل درآمد کرا رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے رانا سلیم نے بتایا کہ ہوٹل میں ہر فرد کے لیے ماسک لازمی ہے۔ اس کے علاوہ مناسب فاصلہ، سینیٹائزر کا استعمال اور مہمانوں کی آمد سے قبل کمرے کو ڈس انفیکٹ کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول اس کے علاوہ ڈائننگ ہال کو بند کیا ہوا ہے اور کھانے کے لیے روم سروس دی جاتی ہے۔

رانا سلیم نے مزید بتایا کہ سیاحتی مقامات کھلنے کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رُخ کر رہی ہے اور تمام ہوٹلز کی گنجائش پوری ہو چکی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی بیرونی ممالک سے سیاح نہیں آ رہے اور زیادہ تر سیاح کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے آ رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کی انتظامیہ کے مطابق وہ حکومتی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کی معیشت کا 80 فی صد دار و مدار سیاحت پر ہے۔ تاہم وہ اپنے عوام کی صحت کا بھی مکمل خیال رکھنا چاہتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلٰی گلگت بلتستان کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ اب تک گلگت بلتستان میں تین ہزار سے زائد گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے شمالی علاقہ جات کا رُخ کیا ہے۔

فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی خواہش ہے کہ سیاح حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں۔ ان احتیاطی تدابیر میں افراد کے درمیان مناسب فاصلہ اور فیس ماسک کا استعمال شامل ہیں۔

فیض اللہ فراق کے بقول سیاحوں کی سہولت کے لیے گلگت بلتستان کے تمام داخلی پوائنٹس پر انتظامیہ کے اہل کار لوگوں موجود ہیں۔

گلگت بلتستان کی انتظامیہ کے مطابق وہ حکومتی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کی معیشت کا 80 فی صد دارومدار سیاحت پر ہے۔ (فائل فوٹو)
گلگت بلتستان کی انتظامیہ کے مطابق وہ حکومتی اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان کی معیشت کا 80 فی صد دارومدار سیاحت پر ہے۔ (فائل فوٹو)

گلگت بلتستان کے علاوہ بڑی تعداد میں سیاح صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کا بھی رُخ کرتے ہیں۔

جنید خان کے مطابق جو بھی ایس او پیز کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا اسے بلاتفریق جرمانہ کیا جائے گا۔

ان کے مطابق ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری کے علاوہ ٹور آپریٹرز اور ٹریول ایجنٹس کا ایس او پیز پر عمل درآمد کرانا لازمی ہے تاکہ آنے والے وقت میں کرونا وائرس کی دوسری لہر سے بچا جا سکے۔

گلگت بلتستان کے علاوہ بڑی تعداد میں سیاح صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کا بھی رُخ کرتے ہیں۔ (فائل فوٹو)
گلگت بلتستان کے علاوہ بڑی تعداد میں سیاح صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کا بھی رُخ کرتے ہیں۔ (فائل فوٹو)

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں اب صرف 1400 کے قریب کیسز رہ گئے ہیں جو کہ آنے والے دنوں میں مزید کم ہو جائیں گے۔

جنید خان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں زیادہ تر لوگ مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن کا رُخ کرتے ہیں۔ تاہم کچھ نئی سائٹس بھی اب متعارف کرائی گئیں ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ اگست کے مہینے میں تقریباً 10 لاکھ سے زائد سیاح ان علاقوں کی سیر کے لیے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG