رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کے باعث پاکستان میں سیاحت سے وابستہ نو لاکھ ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ


(فائل فوٹو)

عالمی بینک نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے معاشی اثرات کی وجہ سے پاکستان میں سیاحتی شعبے سے وابستہ لگ بھگ نو لاکھ جب کہ جنوبی ایشیا میں اس سے وابستہ ایک کروڑ 77 لاکھ افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں ادارے کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا کے سیاحتی شعبے پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کی وجہ سے خطے کی مجموعی آمدنی میں اربوں ڈالرز کی کمی متوقع ہے۔

عالمی بینک کے مطابق 'ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل' نے رواں سال مئی میں پیش گوئی کی تھی کہ کرونا وائرس کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں آنے والے سیاحوں کی آمد میں 42 فی صد کمی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقامی سیاحوں کی تعداد میں بھی 25 فی صد کمی ہو سکتی ہے۔

عالمی وبا کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سیاحت کے شعبے کو مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ لاک ڈاؤن اور ذرائع آمدورفت معطل ہونے کی وجہ سے بیرون ملک اور اندون ملک بھی سیاحتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہیں جس کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کی سیاحت متاثر ہونے کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار کو 3 ارب 64 کروڑ ڈالر نقصان کا احتمال ہے جب کہ ملک میں سیاحت کی صنعت سے وابسہ لگ بھگ نو لاکھ افراد کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا کی وجہ سے بھارت میں سیاحت کی صنعت سے وابستہ معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں 90 لاکھ افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے۔ بھارت کی مجموعی قومی پیداوار میں 43 ارب 40 کروڑ ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے۔

بنگلہ دیش کی جی ڈی پی کو لگ بھگ 2 ارب ڈالرز، سری لنکا کی جی ڈی پی میں بھی تقریباً دو ارب ڈالرز جب کہ مالدیپ کی جی ڈی پی میں 70 کروڑ ڈالر کمی کا خدشہ ہے۔

نیپال کی جی ڈی پی میں 46 کروڑ ڈالرز کی کمی کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں ان ممالک میں لاکھوں افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

پیرا گلائیڈنگ کو بھی وائرس لگ گیا
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:44 0:00

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان حکومتوں نے سیاحتی شعبے کو بچانے کے لیے ہنگامی پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ لیکن عالمی وبا کی وجہ سے چھ سے نو ماہ کے دوران سیاحتی شعبہ تقریباً بند رہے گا اور اس کی دوبارہ مکمل بحالی میں بہت وقت درکار ہو گا۔

تاہم رپورٹ کے مطابق عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ سیاحت کے شعبے کو درپیش مشکلات کے پیشِ نطر فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے سیاحت سے وابستہ افراد کے روزگار کو بچایا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں ٹیکس میں چھوٹ کے علاوہ دیگر مراعات شامل ہیں۔

اقتصادی اُمور کے ماہر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتِ حال کے باعث سیاحتی شعبہ پہلے ہی مسائل سے دوچار تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اگرچہ حالیہ چند برسوں میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد بڑھی ہے۔ لیکن خطے کے دیگر ملکوں نیپال، سری لنکا اور مالدیپ کے مقابلے میں یہ تعداد بہت کم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زیادہ تر بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے اہل خانہ سے ملنے یہاں آتے ہیں اور زیادہ تر یہی پاکستانی شمالی علاقہ جات میں سیر کے لیے جاتے ہیں۔

اُن کے بقول اگر حالات ٹھیک ہو بھی جائیں اور سیاحتی شعبہ کھل جائے پھر بھی پاکستانی سیاحت کا معیشت میں عمل دخل بہت محدود ہے۔

ادھر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت بتدریج بحالی کی طرف جا سکتی ہے۔ ادارے کی ایک رپورٹ میں معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پاکستان کے معاشی اقدامات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مستقبل قریب میں معشیت میں بہتری کے امکانات کم ہیں اور رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی 0.4 فی صد رہنے کی توقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG