رسائی کے لنکس

نئی پالیسی سے قبل ٹلرسن کے پاکستان، بھارت اور افغانستان سے رابطے


امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن ، فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دارالحکومت واشنگٹن کے قریب پیر کی شام ایک فوجی مرکز میں خطاب کرنے والے ہیں جس میں أفغانستان کے بارے نئی امریکی حکمت عملی کے خدوخال پر روشنی ڈالی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان حیدر نیورٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ایک ملک کے حوالے سے پالیسی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان سے پہلے، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے آج ٹیلی فون پر پاکستان کے وزیر أعظم شاہد خاقان عباسی، بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور أفغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے بات کی۔

اہم حکومتی عہدے داروں سے ہونے والی بات چیت کا موضوع یہ تھا کہ امریکہ جنوبی ایشیا کے استحكام کے لیے نئی مربوط علاقائی حکمت عملی کے ذریعے ان میں سے ہر ملک کے ساتھ کس طرح کام کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دارالحکومت واشنگٹن کے قریب پیر کی شام ایک فوجی مرکز میں خطاب کرنے والے ہیں جس میں أفغانستان کے بارے نئی امریکی حکمت عملی کے خدوخال پر روشنی ڈالی جائے گی۔

أفغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف طویل عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے باوجود توقعات پوری نہ ہونے پر امریکی صدر اپنے مشیروں سے صلاح مشورے کرتے رہے ہیں تاکہ اس جنگ کو، جو کسی بیرونی ملک میں امریکہ کی طویل ترین جنگ ہے، کسی منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

امریکہ أفغانستان میں امن و استحکام اور ایک ایسی مضبوط حکومت کا قیام چاہتا ہے جو اپنے داخلی مسائل سے خود نمٹ سکے۔

نئی أفغان حکمت عملی کے حوالے سے میڈیا میں کئی آپشنز بات ہوتی رہی ہے جن میں أفغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، یا ان کا مکمل انخلا اور اس کی بجائے پرائیویٹ ملیشیا کو امن وامان کی ذمہ داری سونپا شامل ہیں۔

میڈیا کے ذرائع کے مطابق امریکہ أفغانستان میں قیام امن میں پاکستان کو ایک اہم کردار کے طور پر دیکھتا ہے اور کئی امریکی عہدے دار یہ سمجھتے ہیں حقانی نیٹ ورک پر کنڑول سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں ۔ ان کا یہ بھی خیال ہے حقانیوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ہیں ۔ جب کہ پاکستان اس سے انکار کرتا ہے۔

کئی امریکی عہدے دار أفغانستان کے حوالے سے بھارت کو بھی ایک کردار دینے کے حق میں ہیں جب کہ پاکستان کو اس پر تحفظات ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے أفغانستان میں مزید فوجی بھیجنے سے متعلق سوال پر جواب دینے سے احتراز کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی صر ف أفغانستان کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا سے متعلق حکمت عملی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG