رسائی کے لنکس

logo-print

کم جونگ اُن سے سربراہ ملاقات کیلئے صدر ٹرمپ کی ہنوئی آمد


’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز‘ کے سینئر فیلو ایلگزینڈر نائل کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے واحد اتحادی ملک کی حیثیت سے چین کی خواہش ہے کہ امن کے ان تمام اقدامات میں اسے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن سے ملاقات کیلئے ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی پہنچ گئے ہیں۔ ہنوئی میں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں ویتنام کے سفیر ہا کم نوک، ویتنام کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ فام بن من اور ویتنام میں امریکی سفیر ڈینیل کرئٹن برنک سے مختصر ملاقاتیں کیں۔

ویتنام پہنچنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا، ’’میں ویتنام میں ابھی ابھی پہنچا ہوں۔ زبردست استقبال کرنے پر ہنوئی کے لوگوں کا شکریہ۔ یہاں بہت بڑا ہجوم تھا اور لوگوں نے بہت محبت کا مظاہرہ کیا‘‘۔

اس سے قبل شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن بھی ٹرین کے ذریعے 60 گھنٹے کا سفر طے کرتے ہوئے چین کے شمال مشرقی علاقے سے ویتنام میں داخل ہوئے۔

صدر ٹرمپ کے ساتھ اُن کی پہلی سربراہ ملاقات سنگاپور میں ہوئی تھی۔ اس کیلئے چین نے چیئرمین کم کو سفر کیلئے ایک خصوصی طیارہ فراہم کیا تھا۔ اس بار چین نے اُن کیلئے ریل کے سفر کا اہتمام کیا ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر ریل کے اس سفر کے دوران پیش آنے والی ٹریفک کی رکاوٹوں کے حوالے سے تنقید کی گئی ہے، جسے چینی حکام نے سینسر کر دیا ہے۔

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن ٹرین پر ویت نام پہنچے
شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن ٹرین پر ویت نام پہنچے

لیاؤننگ اکادمی برائے سوشل سائینسز میں شمالی کوریا کے ایک ماہر لو چاؤ کا کہنا ہے کہ چیئرمین کم کے سفر کے حوالے سے کوئی حیرت انگیز صورت حال سامنے نہیں آئی۔ اُن کا کہنا ہے کہ سفر کیلئے ٹرین کا انتخاب چیئرمین کم نے خود کیا اور چین کے شمالی علاقے سے جنوب کی طرف سفر کرتے ہوئے اُنہیں چین کے مختلف علاقوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایسی افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ اس سفر کے دوران بیجنگ میں رکیں گے۔ تاہم، اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ چیئرمین کم اور چینی صدر شی جنگ پن جنوری میں ملاقات کر چکے ہیں اور اس ملاقات میں ہنوئی میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہٴ خیال کر لیا گیا تھا۔

لو چاؤ کہتے ہیں کہ اس سربراہ ملاقات کے بعد واپس جاتے ہوئے ممکن ہے کہ کم جونگ اُن مختصر وقت کیلئے بیجنگ میں رکیں اور چینی صدر کو اس ملاقات کی تفصیل سے آگاہ کریں۔

لو چاؤ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اور چین کے درمیان قریبی تعلقات کیلئے اکثر ہونٹوں اور دانتوں کی قربت کی مثال دی جاتی ہے۔ تاہم، صدر شی جنگ پن کی مدت صدارت کے پہلے پانچ برسوں کے دوران بعض حلقے تعلقات میں کسی قدر گراوٹ کا اشارہ دے رہے تھے۔

اُس وقت چین نے دیگر ملکوں کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا پر میزائل اور جوہری تجربات کے حوالے سے تنقید کی تھی اور چینی صدر نے پہلی مرتبہ چیئرمین کم سے گزشتہ برس مارچ میں ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں سربراہوں کی متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

سنگاپور میں قائم ’انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز‘ کے سینئر فیلو ایلگزینڈر نائل کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے واحد اتحادی ملک کی حیثیت سے چین کی خواہش ہے کہ امن کے ان تمام اقدامات میں اسے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ چینی صدر شی جنگ پن ان مزاکرات کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے کردار کو سراہے جانے کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کے درمیان ہنوئی میں ہونے والی اس سربراہ ملاقات سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ چین میں ان توقعات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس سربراہ ملاقات سے مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے جائیں گے۔

امریکہ میں ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں صدر ٹرمپ شمالی کوریا سے پابندیاں اُٹھانے کیلئے مطلوبہ اقدامات کے مطالبات کو خاصی حد تک کم کر دیں گے۔

کچھ ایسے ہی خدشات چین کے بعض حلقوں کی طرف سے بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG