رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی جلدی نہیں: ٹرمپ


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ ان کی طے شدہ ملاقات میں کئی معاملات پر پیش رفت ہوگی۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ واضح بھی کیا ہے کہ انہیں شمالی کوریا کے معاملے میں نتائج کے حصول کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ آخرِ کار شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن ان کے بقول انہیں اس کی جلدی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کم جونگ ان بہت مثبت خیالات کے ساتھ ان سے ملاقات کے لیے آ رہے ہیں جو ان کے بقول جلد ہی آشکار ہوجائیں گے۔

صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان 27 اور 28 فروری کو ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ملاقات ہوگی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہوگی۔

اس سے قبل دونوں رہنماؤں نے گزشتہ سال جون میں سنگاپور میں ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

لیکن اس ہدف کے حصول کی جانب پیش رفت کی تفصیلات سات ماہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال طے نہیں پا سکی ہیں اور اس معاملے پر دونوں ممالک کے مذاکرات بار بار ڈیڈلاک کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

لیکن منگل کو اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والی ملاقات میں بہت کچھ مثبت ہوگا اور یہ دو دن بہت پرجوش گزریں گے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو سے قبل منگل کو جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان کو ٹیلی فون کیا تھا جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے ہونے والی سربراہی ملاقات پر تبادلۂ خیال کیا۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ بدھ کو جاپانی وزیرِ اعظم شنزو ایب کو بھی ٹیلی فون کرکے ان سے شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ اپنی متوقع ملاقات پر اعتماد میں لیں گے۔

سربراہی ملاقات کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام ہنوئی پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جہاں وہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیلات طے کریں گے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق شمالی کوریا کے لیے امریکہ کے نمائندۂ خصوصی اسٹیفن بیگن بھی سربراہی ملاقات کی تیاریوں کے سلسلے میں ہنوئی پہنچ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG