رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ نے وینزویلا کو انسداد منشیات کے عالمی معاہدے کی پاسداری نہ کرنے والا ملک قرار دے دیا


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کی قانونی حکومت کے لیے امریکہ کے پروگرام کو قومی مفاد میں اہم قرار دیتے ہیں — فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کو انسداد منشیات کے عالمی معاہدے کی پاسداری نہ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا اور بولیویا کو ایک سال کے دوران انسداد منشیات کے عالمی معاہدے کی عملی طور پر پاسداری نہ کرنے والے ممالک قرار دیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ہی امریکہ میں موجود وینزویلا کے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے جب کہ امریکہ نے روس اور چین سمیت دیگر ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی حکومت کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے سے گریز کریں۔

​بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ وینزویلا کی قانونی حکومت کے لیے امریکہ کے پروگرام کو قومی مفاد میں اہم قرار دیتے ہیں۔

امریکہ کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ نکولس مدورو کی آمریت اور جرائم پیشہ عناصر کے گٹھ جوڑ کے خاتمے کے بعد امریکہ کو وینزویلا کے ساتھ مل کر منشیات کی جنوبی امریکہ منتقلی روکنے کے لیے بہتر موقع ملے گا۔

یاد رہے کہ جنوری 2019 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حزب اختلاف کے رہنما گوائیڈو کو وینزویلا کا عبوری صدر تسلیم کرنے کے بعد صدر وینزویلا نکولس مدورو نے امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کا اعلان کیا تھا۔

​صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، بھارت، افغانستان، میکسیکو، برما سمیت 22 ممالک کو منشیات کی راہداری یا غیر قانونی منشیات پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

اس فہرست میں بہاماس، بولیویا، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ڈومینیکن ریپبلک، ایکواڈور، بیلز، ایسلواڈور، پاناما، پیرو، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہنڈورس، جمیکا، لاؤس اور نکاراگوا شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ مذکورہ فہرست میں کسی ملک کی موجودگی ضروری نہیں کہ اُس ملک کی حکومت انسداد منشیات سے متعلق کوششوں یا امریکہ کے ساتھ تعاون کی عکاس ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG