رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں حکومت کا شٹ ڈاؤن تین ہفتوں کے لیے ختم


امریکی کانگریس کی عمارت (کیپٹل ہِل) کا ایک منظر

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے منظور کردہ بجٹ پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد امریکہ کی وفاقی حکومت کا 35 روز سے جاری شٹ ڈاؤن عارضی طور پر ختم ہوگیا ہے۔

جمعے کی شام گئے امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں ہی نے اُس قانون کی منظوری دے تھی جس کا مسودہ بعد صدر کی منظوری سے کانگریس کو روانہ کیا تھا۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر نے بِل پر دستخط کردیے جس میں وفاقی حکومت کے بند محکموں کو 15 فروری تک کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔

اس سے قبل، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام تین ہفتے تک کے لیے منظور کردہ اخراجاتی بِل کے سمجھوتے کی توثیق کی، جس کے بعد کانگریس کے لیے راہ ہموار ہوئی کہ وہ امریکی تاریخ کے سب سے طویل حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی منظوری دے۔

جمعے کے روز وائٹ ہاؤس سے اپنے براہ راست خطاب میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ’’ڈیموکریٹ اور ریبلیکنز نے ایک سمجھوتا طے کیا ہے جس کے تحت تین ہفتوں کے لیے، 15 فروری تک، کے لیے جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن ختم کیا جائے گا‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’جزوی متاثر ہونے والے 800000 محکمہٴ جات کے ملازمین کو جلد از جلد تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے گی‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ فوری طور پر ہونے والے اس سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔

صدر نے کہا کہ ’’دیوار کی تعمیر متنازع معاملہ نہیں ہونا چاہیئے‘‘۔

بقول اُن کے ’’دیوار تعمیر کرنے سے جرائم پیشہ افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے؛ اور ساتھ ہی، منشیات کی اسمگلنگ کو روکا جا سکتا ہے‘‘۔

اُن کے الفاظ میں ’’یہ قرونِ وسطیٰ کی دیوار نہیں ہوگی، بلکہ ایک ’اسمارٹ‘ دیوار ہوگی‘‘۔

صدر نے کہا کہ اُن کے پاس متبادل اقدام کا اختیار موجود تھا، جسے اُنھوں نے استعمال نہیں کیا۔

صدر نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل ہونے نیا دیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ کوئی روک یا دیوار کے نہ ہونے کے باعث غیر قانونی تارکین وطن امریکہ کی جنوبی سرحد سے عشروں سے داخل ہوتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں منشیات اور انسانی اسمگلنگ جاری رہی ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہمارے پاس دیوار تعمیر کرنے کے علاوہ اور کوئی متبادل نہیں، جس معاملے میں کسی طور پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا‘‘۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’36 دِن تک ہونے والے پرجوش مباحثے اور مکالمے کے بعد، میں یہ دیکھتا ہوں کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز پارٹی بازی کو ایک طرف رکھنے پر تیار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں، امریکی عوام کو اولیت دی گئی ہے۔ دونوں پارٹیوں کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ اس شاندار ملک کے فائدے کے لیے مل کر کام کریں‘‘۔

صدر نے کہا کہ اسی دوران دونوں جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو سرحدی سیکورٹی کا جائزہ لے گی۔

بقول اُن کے ’’ہمیں چمکتے ہوئے سمندری ساحل کے ساتھ 2000 میل طویل پکی دیوار کی ضرورت نہیں۔ ہم نے ایسی کوئی تجویز پیش نہیں کی‘‘۔

صدر کے خطاب پر اپنے رد عمل میں، ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے کہ ’’کسی بھی معاملے پر ہمارےاختلافات کے نتیجے میں شٹ ڈاؤن ہرگز نہیں ہونا چاہیئے، جس سے سرکاری ملازمین کے لیے بلاجواز مشکلات پیدا ہوں اور اُنھیں تنخواہ نہ مل پائے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ بحران کی صورت حال سے ہمیں سبق سیکھنا چاہئے؛ اور اس امید کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ نے جزوی حکومتی بندش کی صورت حال سے ضرور سبق سیکھا ہوگا۔

پلوسی نے کہا کہ سرحدی سیکورٹی تمام امریکیوں کا معاملہ ہے، جب کہ غیر قانونی تارکین وطن پرکسی کی سوچ مختلف نہیں ہے، جن امور پر پارٹی بازی سے بالا ہو کر اقدام کرنا ہوگا۔

امریکی سینیٹ میں اقلیتی پارٹی کے قائد، چَک شومر نے کہا ہے کہ ’’کسی طور پر بھی سرکاری ملازمین کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا۔ اس بلا جواز شٹ ڈاؤن کے بعد، امید ہے کہ ٹرمپ نے اپنا سبق سیکھا ہوگا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG