رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک ٹائمز ناقد عہدے دار کا نام بتائے، صدر ٹرمپ کا مطالبہ


صدر ٹرمپ بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب کے بعد نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے مضمون سے متعلق صحافیوں کے سوالات سن رہے ہیں۔

مضمون نگار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اکثر اوقات ادھوری معلومات کی بنیاد پر بغیر سوچے سمجھے بے پرواہی سے فیصلے کرتے ہیں جن سے بعد میں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اخبار 'نیویارک ٹائمز' سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی حکومت کے اس "بزدل" اعلیٰ عہدے دار کا نام ظاہر کرے جس نے اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں صدرکو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بدھ کی شب اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر کوئی ایسا سینئر عہدے دار واقعی وجود رکھتا ہے اور "ناکام نیویارک ٹائمز" ایک بار پھر جھوٹ نہیں بول رہا تو اسے قومی سلامتی کی خاطر اس شخص کا نام فوراً حکام کو بتانا چاہیے۔

اس ٹوئٹ سے قبل صدر نے سوالیہ نشان کے ساتھ صرف ایک لفظ "غداری؟" ٹوئٹ کیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے مضمون کو غداری سمجھتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز نے بدھ کو مصنف کے نام کے بغیر ایک مضمون شائع کیا ہے جو اخبار کے دعوے کے مطابق صدر ٹرمپ کی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے تحریر کیا ہے۔

مضمون نگار نے اپنی تحریر میں صدر ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بیشتر "بدترین خواہشات" ان کے اپنے عملے کے ارکان منظرِ عام پر نہیں آنے دیتے اور ایسا اکثر ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے اس مضمون پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اشاعت پر نیویارک ٹائمز کی انتظامیہ پر کڑی تنقید کی ہے۔

بدھ کی شام وائٹ ہاؤس کے 'ایسٹ روم' میں ہونے والی ایک تقریب کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے مضمون نگار کو "بزدل" قرار دیتے ہوئے اخبار پر کڑی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز والوں کو ڈونلڈ ٹرمپ پسند نہیں اور "میں انہیں پسند نہیں کرتا کیوں کہ وہ انتہائی بد دیانت لوگ ہیں۔"

صدر نے مضمون نگار کو ایک ایسا شخص قرار دیا جو ان کے بقول ناکام ہے اورکچھ اور ہی سوچ کے ان کی حکومت کا حصہ بنا ہے۔

بعد ازاں رات گئے صدر ٹرمپ نے بظاہر اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ "میں گندگی صاف کر رہا ہوں اور گندگی مزاحمت کر رہی ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ ہم ہی جیتیں گے۔"

نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے مضمون کے مصنف نے صدر ٹرمپ کو "اخلاقی اقدار سے عاری" اور "تجارت اور جمہوریت مخالف شخص" قرار دیا ہے۔

مضمون نگار نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کی زیرِ صدارت ہونے والے بیشتر اجلاسوں میں موضوع پر گفتگو نہیں ہوتی اور صدر بلند و بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں۔

مضمون نگار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اکثر اوقات ادھوری معلومات کی بنیاد پر بغیر سوچے سمجھے بے پرواہی سے فیصلے کرتے ہیں جن سے بعد میں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔

مصنف کے بقول اس ابتر دور میں شاید امریکیوں کو یہ جان کر کچھ تسلی ہو کہ صدر کے آس پاس کچھ "بالغ افراد بھی موجود ہیں۔"

مضمون نگار نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں ہٹانے کی سرگوشیاں بھی ہوئی تھیں لیکن کوئی بھی اتنی جلدی کوئی آئینی بحران پیدا کرنا نہیں چاہتا تھا۔

مصنف کے بقول "اس حکومت کو صحیح سمت میں رکھنے کے لیے ہم سے جو بن پڑا ہم کریں گے تاوقتیکہ کسی نہ کسی طرح یہ ختم ہو۔"

واضح رہے کہ امریکی آئین کی 25 ویں ترمیم میں موجودہ صدر کو عہدے سے ہٹانے کی شرائط اور طریقۂ کار بیان کیا گیا ہے۔

اس مضمون کی اشاعت پر صدر ٹرمپ کی جانب سے برہمی کے اظہار کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک بیان میں مضمون کو "ناگوار اور خود غرضی پر مبنی" قرار دیتے ہوئے اس کی اشاعت کو نیو یارک ٹائمز کی ایک اور کم تر حرکت قرار دیا گیا ہے۔

بیان وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے جاری کیا ہے جس میں اخبار کی انتظامیہ سے تحریری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق مضمون کی اشاعت لبرل میڈیا کی جانب سے صدر کو بدنام کرنے کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں کی اور مثال ہے۔

صدارتی ترجمان نے مضمون نگار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضمون نگار کے لیے اپنے ملک کا مفاد اور امریکی عوام کی خواہشات کے بجائے اس کی اپنی ذات اور انا مقدم ہے۔

ترجمان نے مضمون نگار کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ حکومت اتنی ہی غلط ہے تو اسے اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔

مذکورہ مضمون امریکہ کے معروف صحافی باب وڈ ورڈ کی ٹرمپ حکومت کے بارے میں لکھی جانے والی کتاب کی اشاعت کے فوراً بعد سامنے آیا ہے اور دونوں میں تقریباً ملتے جلتے دعوے کیے گئے ہیں۔

باب وڈ ورڈ کی کتاب 'فِیئر' منگل کو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے عملے کے کئی افراد انہیں سخت ناپسند کرتے ہیں اور ان کے رویے سے نالاں ہیں۔

صدر ٹرمپ اس کتاب کو "افسانہ طرازی" قرار دے کر اس میں کیے گئے دعووں کو مسترد کرچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG