رسائی کے لنکس

logo-print

ڈورین طوفان: امریکی صدر نے غلط نقشہ دکھا دیا


غلطی کی نشاندہی کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ڈوریئن طوفان کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔ (فائل فوٹو)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سمندری طوفان ڈورین کی تفصیلات صحافیوں کو بتاتے ہوئے غلط نقشہ دکھا دیا اور اس کی نشاندہی ہونے پر انہوں نے کہا کہ اُنہیں اس بارے میں علم نہیں ہے۔

اوول آفس میں بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک نقشہ دکھایا گیا۔ جس میں امریکی ریاست الاباما کو بھی ڈورین طوفان سے متاثرہ ریاستوں میں ظاہر کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کے دوران 'نیشنل ہریکین سینٹر' کی جانب سے جاری کردہ وہ نقشہ دکھایا جس میں ڈورین طوفان کی ابتدائی پیش گوئی کی گئی تھی۔

اس نقشے میں ڈورین طوفان کی نشاندہی کرنے والی سیاہ لکیر کے ذریعے امریکی ریاست الاباما کو بھی ڈورین طوفان سے متاثرہ ریاستوں میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم سمندری طوفان ریاست الاباما تک نہیں پہنچا۔

اس غلطی کی نشاندہی کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کچھ نہیں پتہ۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک ٹوئٹ میں بھی کہا تھا کہ ڈورین طوفان سے فلوریڈا، جنوبی کیرولینا، شمالی کیرولینا اور جارجیا کے علاوہ الاباما کی ریاستیں بھی متاثر ہوں گی۔

امریکی صدر کی پریس کانفرنس کے کچھ ہی دیر بعد برمنگھم میں واقع محکمہ موسمیات نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ امریکی ریاست الاباما ڈورین طوفان سے متاثر نہیں ہوگی۔

ڈورین طوفان
جزیرہ بہاماس میں اس طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد ڈورین جمعرات کو کیٹیگری تین میں واپس چلا گیا ہے۔ جس سے جارجیا سے ورجینیا تک کی ریاستوں کو شدید خطرات لاحق تھے۔

ڈورین طوفان کی شدّت میں کمی کے بعد یہ طوفان کیٹیگری پانچ سے کیٹیگری دو میں چلا گیا تھا۔ تاہم بدھ کو طوفان کی شدّت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ڈورین طوفان سے جزیرہ بہاماس میں اب تک 20 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

سمندری طوفانوں سے آگاہ کرنے والے امریکی ادارے کے مطابق ڈورین طوفان کی موجودہ شدّت اگلے چند گھنٹوں تک برقرار رہے گی۔ جس کے بعد ہفتے تک طوفان کی شدّت میں مزید کمی متوقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG