رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کے مشیر معاشی امور کا مستعفی ہونے کا فیصلہ


گیری کوہن (فائل فوٹو)

گیری کوہن صدر ٹرمپ کی جانب اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر نئے ٹیکس عائد کیے جانے کی تجویز کے سخت مخالف تھے۔

صدر ٹرمپ کے مشیرِ اعلیٰ برائے معاشی امور گیری کوہن نے حکومت کی تجارتی پالیسی سے اختلافات کے باعث اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

گیری کوہن صدر کی قومی اقتصادی کونسل کے ڈائریکٹر ہیں جو امریکی صدر کو معاشی اور تجارتی امور پر مشاورت فراہم کرتی ہے۔

گیری صدر ٹرمپ کی جانب اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر نئے ٹیکس عائد کیے جانے کی تجویز کے سخت مخالف ہیں اور وہ صدر کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کوششوں میں بھی مصروف رہے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے ٹیکسوں کا نفاذ نہ کرنے سے متعلق تمام دباؤ مسترد کردیا ہے اور منگل کو ہی انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ چند روز میں المونیم اور اسٹیل کی درآمدات پر ٹیکسوں کے نفاذ کا اعلان کریں گے۔

صدر کے اس اعلان کے کچھ دیر بعد ہی گیری کوہن کے استعفے کا اعلان سامنے آیا جس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ نئے ٹیکسوں کی صرف کانگریس میں ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس اور حکومت کے اندرونی حلقوں میں بھی مخالفت زور پکڑ رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن کے کئی رہنما بشمول ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر پال رائن کہہ چکے ہیں کہ نئے ٹیکسوں کے نتیجے میں امریکی معیشت پر برا اثر پڑے گا۔

گیری کوہن معروف امریکی سرمایہ کار گروپ اور بینک 'گولڈ مین سیکس' سے منسلک رہے ہیں جنہوں نے صدر ٹرمپ کی دعوت پر ان کی مشاورتی کونسل کی سربراہی سنبھالی تھی۔

ٹیکسوں کے معاملے پر اختلافات کے باوجود صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں گیری کوہن کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کی امتیازی خدمت کی ہے۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران صدر ٹرمپ کے کئی قریبی ساتھی اور مشیر اپنے عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں جب کہ یہ خدشہ بھی ہے کہ صدر کے عملے کے مزید کئی ارکان مستقبل قریب میں اپنے عہدے چھوڑ سکتے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کوئی ابتری یا اختلافات ہیں اور ان کے بقول "ہر کوئی وائٹ ہاؤس میں کام کرنے کا خواہش مند ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG