رسائی کے لنکس

صدر ٹرمپ کا فرانس کا دورہ


صدر ٹرمپ پیرس کے ایئر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ 14 جولائی 2017

فرانس کے صدرایمانوئل میکرون کا کہنا تھا کہ آب و ہوا پر ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اختلافات کیا ہیں ۔ ہم نے کئی بار اس پر ایک دوسرے سے بات کی ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ دیکھنا اہم ہے کہ ہم اس موضوع پر کیسے پیش رفت کرسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو اپنے فرانس کے دورے کے پہلے روز اس وجہ سے بھی قدرے مشکل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے آب و ہوا کے پیرس معاہدے سے امریکہ کو الگ کرنے کے اپنے فیصلے میں تبدیلی کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔

آب و ہوا اور تجارت پر اپنے میزبان کے ساتھ گہرے اختلافات نے صدر ٹرمپ کے ایک اچھے دورے کو متاثر کیا۔ اٹلانٹک بھر میں روس اور ان کی صدارتی مہم کے بارے میں سوالات ہوتے رہے لیکن مسٹر ٹرمپ آب وہوا کے پیرس معاہدے سے الگ ہونے کے اپنے فیصلے کے بارے میں فرانس کے خدشات کا جواب دیتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیرس معاہدے کے حوالے سے کچھ ہو سکتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم آنے والے دنوں میں اس پر بات کریں گے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت اچھا ہو گا اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ بھی ٹھیک ہو گا۔

فرانس کے صدرایمانوئل میکرون کا کہنا تھا کہ آب و ہوا پر ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اختلافات کیا ہیں ۔ ہم نے کئی بار اس پر ایک دوسرے سے بات کی ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ دیکھنا اہم ہے کہ ہم اس موضوع پر کیسے پیش رفت کرسکتے ہیں ۔ میں صدر ٹرمپ کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔

دونوں راہنما بظاہر اچھی شروعات کے خواہاں تھے۔اور صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں معیشت کو موضوع بنایا اور کہا کہ توانائی کی تحفظ اور اقتصادی ترقی میں پیش رفت کے ساتھ امریکہ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اپنے عزم پر قائم ہے ۔ اور میں مزید یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملکوں کے درمیان دوستی ٹوٹ نہیں سکتی۔

فرانس نے صدر ٹرمپ کا خیرمقدم اپنے ممتاز ترین مہمان کے طور پر کیا۔

یہ دورہ مسٹر میکرون کے لیے بھی اہم ہے ۔ انہیں یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک مضبوط لیڈر ہیں جو نئی امریکی قیادت کے ساتھ معاملات طے کر سکتے ہیں خواہ اختلافات کتنے بڑے ہی کیوں نہ ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG