رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کی میئر لندن صادق خان پر پھر تنقید


لندن کے میئر صادق خان لندن برج پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں جہاں ہفتے کو ایک حملے میں سات افراد ہلاک ہوگئے تھے

اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے صادق خان کے اس بیان سے یہ تاثر لے کر اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ میئر لندن کے شہریوں کو حملے کی پرواہ نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈو نالڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے مسلمان میئر صادق خان کو پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو مسلسل دوسرے روز بھی لندن میں گزشتہ ہفتے ہونے والے دہشت گرد حملے پر صادق خان کے مبینہ ردِ عمل پر ٹوئٹر پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا۔

پیر کو اپنے ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لندن کے میئر صادق خان نے حملے کے بعد اس کی "بدترین توجیہہ" پیش کی اور انہیں اپنے "پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں" والے بیان پر "فوراً غور کرنا چاہیے تھا۔"

صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی صادق خان کے "پریشان نہ ہوں" والے بیان کو غلط سیاق و سباق میں پیش کیا تھا۔

میئر صادق خان نے گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے حملے کے بعد شہر کے رہائشیوں سے کہا تھا کہ وہ شہر میں پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی اور مسلح اہلکاروں کے گشت سےپریشان نہ ہوں۔

اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے صادق خان کے اس بیان سے یہ تاثر لے کر اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ میئر لندن کے شہریوں کو حملے کی پرواہ نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

صادق خان کے ایک ترجما ن نے امریکی صدر کے اتوار کے ٹوئٹ کے جواب میں کہا تھا کہ میئر خاصے مصروف ہیں اور ان کے پاس صدر ٹرمپ کے "ناکافی معلومات پر مشتمل" ٹوئٹ کا جواب دینے کا وقت نہیں۔

پیر کو مسلسل دوسرے دن بھی صادق خان پر تنقید کے بعد صحافیوں کے رابطہ کرنے پر میئر کے ترجمان نے کہا کہ صادق خان کی مکمل توجہ ہفتے کو ہونے والے دہشت گرد حملے کے اثرات سے نبٹنے پر مرکوز ہے اور وہ لندن کو محفوظ بنانے کے لیے پولیس، ایمرجنسی سروسز اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مصروف ہیں۔

پیر کو برطانیہ کے چینل 4 نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی صدر کےٹوئٹ سے متعلق سوال پر صادق خان کا بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس امریکی صدر کے ٹوئٹس کا جواب دینے کا وقت نہیں۔

لندن کےمیئر کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں برطانوی حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکی صدر کو دی گئی دورے کی دعوت واپس لے لے کیوں کہ موجودہ حالات میں امریکی صدر کی پالیسیاں ان تمام اصولوں کے خلاف ہیں جن پر برطانوی عوام یقین رکھتے ہیں۔

پیر کو لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران برطانوی وزیرِاعظم تھریسا مے نے صادق خان کےخلاف امریکی صدر کے ٹوئٹس سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ لندن کے میئر اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں اور اس بارے میں کچھ اور کہنا غلط ہے۔

پیر کو بی بی سی ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران برطانیہ کے وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے بھی صادق خان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وہ بیان بالکل درست تھا جس میں انہوں نے لندن کے شہریوں کو مسلح پولیس اہلکاروں کی موجودگی سے پریشان نہ ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

تاہم صادق خان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو برطانیہ کے دورے کی دعوت واپس لینے کے مشورے پر بورس جانسن کا کہنا تھا کہ یہ دورہ طے پاچکا ہے اور اب اسے تبدیل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

منگل کو نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران جب امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن سے امریکی صدر کے لندن میئر کے خلاف ٹوئٹس سے متعلق سوال ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ صدر کا اپنا معاملہ ہے۔

وہائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان سارہ سینڈرز نے پیر کو صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں اس تاثر کی نفی کی کہ صدر ٹرمپ لندن کے میئر کے ساتھ لڑنا چاہ رہے ہیں۔

ترجمان نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ صدر نے صادق خان کے بیان کا غلط مطلب لیا ہے اور کہا کہ میڈیا صدر کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG